خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 170

خطابات شوری جلد دوم ۱۷۰ مشاورت ۱۹۳۷ء بڑھانے چاہئیں یہ تبلیغی مرکزوں کی سکیم در حقیقت میرے احکام کے ماتحت تین سال سے جاری ہے۔یعنی جب سے کہ تحریک جدید جاری ہے۔اُس وقت سید ولی اللہ شاہ صاحب دعوت وتبلیغ کے ناظر تھے میں نے انہیں ہدایت دی تھی کہ سرحدوں کی حفاظت قرآنی اصول ہے۔آپ کو چاہئے کہ رنگون ، کلکتہ بمبئی ، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں تبلیغ پر زیادہ زور دیں۔چنانچہ اس کے ماتحت کراچی میں ہمارا مبلغ دو سال سے کام کر رہا ہے ، بمبئی میں بھی کام شروع ہے، کلکتہ میں دو چار دفعہ کام کیا لیکن پھر بند ہو گیا، رنگون میں بھی دو سال سے مبلغ کام کر رہا ہے۔قرآن کریم سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت نہایت ہی ضروری چیز ہے اور اس کے فوائد پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں اس کے بہت سے ایسے فوائد نظر آتے ہیں جن کو دیکھتے ہوئے اس کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔پہلی چیز جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ کسی ملک کے تعلقات دوسرے ممالک سے ہمیشہ سرحدوں کے ذریعہ ہی ہوتے ہیں۔اگر بندرگاہ ہو تو غیر ممالک کے جہاز وہاں آتے ہیں اور اس طرح جن ملکوں میں پہنچ کر ہم تبلیغ نہیں کر سکتے وہاں کے لوگوں کو ان شہروں میں مل کر تبلیغ کر سکتے اور احمدیت کا پیغام اُن ممالک کے رہنے والوں تک پہنچا سکتے ہیں۔مثلاً بمبئی میں جاپان، جاوا، امریکہ اور اٹلی کے جہاز آتے ہیں۔اگر ہمارا ایک آدمی وہاں بیٹھا ہوا ہو اور ان ممالک سے جو سیاح آئیں اُن سے ملاقات کر کے اُنہیں تبلیغ کرے۔جہاز کے ملازموں سے تعلقات پیدا کرے اور اُنہیں مطالعہ کے لئے لٹریچر دے تو یقینا عظیم الشان فوائد تھوڑے سے خرچ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔اسی طرح کراچی سے عرب، ایران اور جزائر خلیج فارس وغیرہ کے تعلقات ہیں بلکہ روس کا بھی تعلق ہے کیونکہ روس کا ایران سے تعلق ہے اور پھر ترکستان اور عراق کا بھی کراچی سے تعلق ہے۔کلکتہ کے تعلقات یوروپین ممالک، جاوا، بور نیو، سماٹرا اور چین سے ہیں۔پھر رنگون مشرقی ممالک سے خاص طور پر تعلقات رکھتا ہے۔پشاور افغانستان، روس اور بخارا سے تعلق رکھتا ہے۔ان شہروں میں غیر ممالک کے آدمی تجارت کے لئے آتے اور ایک ایک دو دو تین تین مہینے ٹھہرتے ہیں اسی لئے میں نے پشاور میں ایک تبلیغی مرکز قائم کیا تھا اور ایک مبلغ وہاں مقرر کرایا تھا جو