خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 169

خطابات شوری جلد دوم ۱۶۹ مشاورت ۱۹۳۷ء ہے پھر وہ غلہ ہوتا ہے۔لیکن ہم تو دیکھتے ہیں زمیندار ہمیشہ یونہی نہیں کرتا بلکہ بعض دفعہ جب بارشیں نہیں ہوتیں حتی کہ بعض دفعہ جب اس کے بیل بھی مر جاتے ہیں وہ یونہی زمین میں غلہ کا چھینٹا دے آتا ہے اور اُس کا نام اللہ تو کھلی رکھتا ہے۔وہ اُسی وقت تک بارش کا انتظار کرتا ہے جب سمجھتا ہے کہ بارش وقت پر ہو جائے گی لیکن جب وہ سمجھتا ہے کہ اب بارش نہیں ہوگی تو وہ اللہ تو کھلی یعنی اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے دانے پھینک آتا ہے پس بیشک احتیاط ضروری ہے مگر جب حالت یہاں تک پہنچ جائے کہ ایسے دینی امور سامنے ہوں جو لا بدی ہوں اور جن میں اگر حصہ نہ لیا جائے تو دین کے کام میں حرج واقعہ ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی حالت میں خدا تعالیٰ پر توکل کر کے ہمیں وہ کام کرنا ہی پڑے گا۔ایک دلیل یہ بھی دی گئی ہے کہ ہر سال دعوت وتبلیغ کے خرچ میں اضافہ ہو رہا ہے۔جب ہر سال اضافہ ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس سال اضافہ نہ کیا جائے۔میرے نزدیک یہ دلیل بھی ہمارے لئے کافی راہنما نہیں کیونکہ دیکھنا یہ چاہئے کہ کام کس حد تک ضروری ہے۔میں مانتا ہوں کہ ہر سال دعوت و تبلیغ کے خرچ میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ساتھ ہی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس خرچ کے نتیجہ میں کام میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اگر ہم بیعتوں کو دیکھیں اور یہ اندازہ لگائیں کہ کیا جس وقت صرف دو چار مبلغ تھے، اُس وقت مبلغوں کے ذریعہ بیعت زیادہ ہوتی تھی یا اب جبکہ وہ چالیس کے قریب ہیں؟ تو میں جس کے پاس بیعت آتی ہے بلا تامل کہہ سکتا ہوں کہ اُس وقت کی نسبت سے مبلغوں کے ذریعہ بیعت کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب مخالفوں کی طرف سے دشمنی کا ایک شور اُٹھتا ہے تو بیعت بھی زیادہ ہونے لگتی ہے لیکن وہ زیادتی مبلغوں کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ افراد کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔پس محض اس وجہ سے کہ کئی سالوں سے دعوت و تبلیغ کے خرچ میں اضافہ ہو رہا ہے یہ کہنا کہ اب بھی زیادتی کر دی جائے جائز نہیں۔ہم نے اس سے پہلے دعوت و تبلیغ کے اخراجات بڑھائے ہیں لیکن اُن کے فوائد ہمارے سامنے نہیں آئے۔پس جب تک اُس زیادتی کے فوائد ہمارے سامنے نہ آجائیں اندھادھند پہلے طریق عمل کی تقلید کرنا اچھا نہیں۔اس کے بعد میں اصل سوال کو لیتا ہوں کہ ہمیں تبلیغی مرکز بڑھانے چاہئیں یا نہیں