خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 168
خطابات شوری جلد دوم ۱۶۸ مشاورت ۱۹۳۷ء سے ایک کو نکالنا چاہیں تو یہ ہم آسانی سے نہیں کر سکتے۔بہر حال ناواقفیت کی وجہ سے بجٹ میں اس قسم کی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن آئندہ کے لئے یہ طریق اختیار کرنا چاہئے کہ ہر کارکن جو یہاں رکھا گیا ہے، اُس کے اخراجات کا آخر تک اندازہ لگایا جائے ، اور اُس کو بجٹ میں ظاہر کیا جائے اور بتایا جائے کہ فلاں وقت تک ہمارا بجٹ اتنا بڑھ جائے گا۔میرے نزدیک آئندہ کم از کم پانچ سال کا بجٹ تیار ہونا چاہئے۔چنانچہ بعض امریکن گورنمنٹیں ایسا کرتی ہیں کہ وہ پانچ سال کا بجٹ پیش کرتی ہیں اور گو پاس ایک سال کا بجٹ ہی کرتی ہیں لیکن چار سال کا خیالی بجٹ بھی وہ پیش کر دیتی ہیں۔مثلاً جو ملازم ہوں اُن کے متعلق وہ یہ اندازہ لگاتی ہیں کہ آئندہ سالوں میں اُنہیں اتنی اتنی ترقیاں دینی ہیں، فلاں کو اتنا الاؤنس دینا ہے اور آئندہ سالوں میں فلاں زائد اخراجات ہوں گے۔اس طرح وہ نہ صرف ایک سال کے اخراجات کو بلکہ آئندہ پانچ سال کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔لیکن ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مبلغ رکھتے ہیں اور اُس کی تنخواہ فرض کرو ۴۵ روپے ہوتی ہے تو ہم ۴۵ روپے ماہوار کا اندازہ کر کے ایک رقم معتین کر دیتے ہیں حالانکہ اُس کا گریڈ ۶۵ یا ۱۰۰ تک ترقی کرنے والا ہوتا ہے اور وہ بار بھی صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ پر پڑنے والا ہوتا ہے۔اسی وجہ سے مجبور ہو کر تین چار سال سے ہم اس کوشش میں رہتے ہیں کہ بجٹ بڑھنے نہ دیں لیکن اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم بجٹ کو مستقل حدود تک لے آئیں اور پھر مستقل خرچ کم رہے اور ہنگامی اخراجات کے لئے زیادہ رقوم رکھی جائیں۔چنانچہ تحریک جدید کا اسی لئے میں نے الگ فنڈ رکھا ہے اور اس میں عارضی خرچ زیادہ اور مستقل خرچ کم رکھا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ کئی ممالک میں نئے مشن کھل گئے ہیں۔اس سے قبل بیرونی ممالک میں ہماری تبلیغ بالکل رُک گئی تھی اور ملک کے ملک ایسے تھے جہاں سے روحانی طور پر ہمیں آوازیں آرہی تھیں کہ ہم بھی خدا کے بندے ہیں ہماری طرف بھی توجہ کرو اور ہم اُن کی طرف توجہ نہیں کر سکتے تھے لیکن تحریک جدید کے ماتحت خدا تعالیٰ نے ان ممالک میں بھی ہمیں اپنے مشن کھولنے کی توفیق عطا فرمائی۔پیر اکبر علی صاحب نے ایک مثال دی تھی۔میں اُس کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اُنہوں نے مثال دی تھی کہ زمیندار کی فراست مومنانہ ہوتی ہے۔پہلے بارش ہوتی