خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 167
خطابات شوری جلد دوم ۱۶۷ مشاورت ۱۹۳۷ء جنہوں نے اس قسم کا وعدہ نہیں کیا۔اگر جماعتیں اس بات پر آمادہ ہو جاتیں تو ہمیں یقینی طور پر معلوم ہوسکتا کہ ہماری کیا آمد ہے۔یا اگر جماعت کا ایک حصہ چندوں کی ادائیگی سے انکار کر دیتا اور جماعتیں اُن کے متعلق تمام ذرائع اختیار کرنے کے بعد فیصلہ کر دیتیں کہ اُن سے چندہ وصول نہیں ہوگا تو ایسے لوگوں کے چندوں کی رقوم کو ہم بجٹ میں سے نکال دیتے تا ہمیں حقیقی طور پر معلوم ہوتا کہ ہماری کتنی طاقت ہے لیکن اب ہماری حالت یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں مومن پر بدظنی نہیں کرنی چاہئے۔جس نے پچھلے سال چندہ نہیں دیا ممکن ہے وہ اب کی دفعہ دے دے اور اس طرح ہم اُس کا چندہ اپنے بجٹ میں شامل کر لیتے ہیں لیکن سال کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی طرف سے چندہ وصول نہیں ہوا اور ہمارے قرض میں زیادتی ہو گئی ہے۔اگر ہم ایسا قانون پہلے ہی پاس کر لیتے اور ایسے لوگوں کا پتہ لگا کر اُن کی الگ لسٹیں بنا لیتے اور صرف ایسے ہی لوگوں کا نام اپنے چندوں میں لکھتے جن کے متعلق ہمیں تجربہ ہے کہ وہ اخلاص رکھتے اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں تو ہمارا بجٹ صحیح بنیادوں پر ہوتا اور پھر اگر دوسروں کی طرف سے بھی کچھ چندہ آ جاتا تو وہ زائد آمد شمار کی جاتی۔میں نے پچھلی دفعہ یا اُس سے پچھلی دفعہ یہ بیان کیا تھا کہ ہمارے بجٹ میں یہ بھاری نقص ہے کہ ایسے اخراجات پر زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے جنہیں کم نہیں کیا جاسکتا مثلاً عملہ کے اخراجات۔لیکن یہ غلطی آج کی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے اور وہ جو عارضی اخراجات ہوتے ہیں اور جن کی اکثر ضرورت رہتی ہے اُس پر رقم کم خرچ ہوتی ہے۔مثلاً انگلستان میں ہم نے مشن کھولا ہوا ہے، وہاں ہمارا تبلیغی مرکز ہے لیکن بجٹ درحقیقت کرا یہ مکان اور رہائش وغیرہ کے لئے ہی کافی ہوتا ہے۔اگر یہ دیکھا جائے کہ ہم وہاں تبلیغ کے لئے کیا دیتے ہیں تو یہی نظر آئے گا کہ وہ مستقل اخراجات کا ۱۰را بھی نہیں ہوتا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے آدمی وہاں بیٹھے رہتے ہیں اور تبلیغ کو وسیع نہیں کر سکتے حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا که مستقل خرچ تھوڑا ہوتا اور عارضی خرچ زیادہ۔کیونکہ مستقل خرچ کو کم نہیں کیا جاسکتا لیکن عارضی خرچ میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک سال ہم ہیں ہزار ٹریکٹ شائع کریں اور دوسرے سال آمد کم ہو تو دس ہزار کریں۔لیکن اگر دو ملازم ہوں اور اُن میں