خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 166

خطابات شوری جلد دوم ۱۶۶ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۷ء غفلت کی وجہ سے آمد میں کمی ہے اور آمد دراصل زیادہ ہونی چاہئے تو پھر غفلت کا عذر صحیح تسلیم کر لینے کے کوئی معنے نہیں اور اگر ہم اس کو صحیح تسلیم کر لیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آئندہ اور غفلت ہو جائے گی اور ہمارے کاموں کے رُکنے کا احتمال ہوگا۔میرے نزدیک یہ دونوں دلیلیں صحیح ہیں اور میں یہ بالکل سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس طرح ایک فریق نے دوسرے کے متعلق کہہ دیا کہ وہ بے عقلی کی بات کر رہا ہے۔دونوں نے جو بات کہی وہ عقلمندانہ ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ اگر آمد میں کمی ہے تو خرچ کو بڑھا دینا یقیناً نقصان رساں ہوگا اور یہ بھی صحیح ہے کہ اگر آمد میں کمی حقیقی کمی نہیں بلکہ اس لئے کمی ہے کہ جس شخص کو دو روپے چندہ دینا چاہئے وہ مثلاً آٹھ آنے دیتا ہے تو اگر ہم اس بناء پر دینی کاموں کا گھٹانا شروع کر دیں تو پھر روز بروز بجٹ کو کم ہی کرتے جانے پر مجبور ہوں گے۔ہم جہاں تک بجٹ کو دیکھتے ہیں، ہمیں یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے تمام افراد کے چندے پورے طور پر وصول نہیں ہو رہے۔بعض پچست ہیں جو خوب چندہ دیتے ہیں بعض درمیانہ درجہ کے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو بالکل نہیں دیتے یا بہت ہی کم دیتے ہیں۔پس آمد کی کمی کا ایک حصہ اس لئے نہیں کہ آمد کے بڑھانے کے ہمارے پاس ذرائع نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ہم میں سے ایک حصہ ایسا ہے جو اس بوجھ کو اٹھانا نہیں چاہتا۔اگر ہم ایسے لوگوں کی وجہ سے کام چھوڑتے اور بند کرتے چلے جائیں تو آہستہ آہستہ ہم اپنے سب کام بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔اس پر دوسری طرف سے پھر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ جو لوگ بوجھ نہیں اُٹھانا چاہتے اُن کی ذمہ داری کس پر ہے؟ ہم ان کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ چندے دیں اور باقاعدہ ایک نظام میں شامل ہوں۔میں نے پچھلی دفعہ بھی بتایا تھا کہ ایسے لوگوں نے ہماری آمد کی تشخیص کو بالکل خراب کر دیا ہے اور ہم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ اتنی آمد ہمیں ضرور ہو جائے گی کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ ممکن ہے ایسے لوگ چندہ دے دیں اور ممکن ہے نہ دیں اسی لئے ایک گزشتہ مجلس شوریٰ میں یہ تجویز پیش ہوئی تھی کہ جماعتیں اپنے اوپر یہ ذمہ واری لیں کہ اگر اُن میں سے بعض لوگ با قاعدہ چندے ادا نہ کریں تو وہ سال کے اختتام پر اپنے اپنے بجٹ کو پورا کر دیں گی۔اس پر بعض جماعتوں نے آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ اپنی جماعتوں کا بجٹ بہر حال پورا کر دیں گی لیکن بہت سی جماعتیں ابھی ایسی ہیں