خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 165
خطابات شوری جلد دوم ۱۶۵ مشاورت ۱۹۳۷ء جگاؤ۔اور پھر ایک حد تک دونوں باتیں درست بھی ہیں کیونکہ اگر ہم سوتوں کو ہی جگائیں تو جو جاگنے والے ہیں وہ بھی سو جائیں اور اگر اُنہی کی طرف ہم توجہ رکھیں جو محنت کرتے اور دین کی امداد کرتے ہیں تو ہمارے کاموں میں وسعت پیدا نہ ہو۔گویا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سونے والوں کو نہ جگا ؤ، وہ تبلیغ کے مخالف ہیں اور جولوگ یہ کہتے ہیں کہ جاگنے والوں کی طرف زیادہ توجہ نہ کرو، وہ تربیت کے مخالف ہیں۔غرض جہاں کی جماعتیں اچھا کام کرنے والی اور دینی امور میں شوق سے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لینے والی ہیں جس طرح ان کو گرنے نہ دینا ہمارا کام ہے، اسی طرح اُن جماعتوں کو جوئست اور غافل ہیں جگانا اور تبلیغ کو وسیع کرنا ہمارے فرائض میں داخل ہے۔اگر ہم یہ قانون تسلیم کر لیں کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں، تمام روپیہ انہی پر خرچ کر دینا چاہئے تو ہمارا فرض ہو گا کہ ہم اپنا تمام روپیہ لڑکوں کی تعلیم پر خرچ کر دیں اور اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ سوتوں کو جگانا ہمارے فرائض میں شامل نہیں۔تو پھر تبلیغ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی کیونکہ جب سوتوں کو جگانا ہمارا فرض نہیں تو مر دوں کو زندہ کرنا ہمارے فرائض سے بالکل ہی باہر ہو گا۔پس اگر ہم ایک طرف مجھکتے اور تبلیغ پر زور دیتے ہیں تو تعلیم اور تربیت کا پہلو خالی چھوڑتے ہیں اور ہمارے اپنے آدمی مرتد ہو سکتے ہیں اور اگر ہم تربیت پر زور دیتے ہیں تو تبلیغ سے اغماض کرتے اور جماعت کی وسعت کو محدود کرتے ہیں۔پس یہ دونوں چیزیں قائم رکھنی پڑیں گی اور ایک توازن اور اعتدال پر انہیں لانا ہو گا۔اور اگر سامان ہمارے پاس کم ہوں تو دونوں چیزوں میں بحصہ رسدی شامل ہونا پڑے گا۔یعنی تبلیغ کی طرف بھی ہمیں توجہ کرنی پڑے گی اور تعلیم و تربیت کی طرف بھی۔ہاں وقتی طور پر جس چیز کی ضرورت زیادہ ہو اُس پر ہم زیادہ زور بھی دے سکتے ہیں۔بعض دوستوں نے جنہوں نے زیادتی کی مخالفت کی ہے کہا ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہماری آمد کیا ہے۔جب تک آمد کے سوال کو حل نہیں کر دیا جاتا اُس وقت محض یہ کہہ دینا کہ خرچ بڑھا دو کافی نہیں ہو سکتا اور نہ زیادتی کی یہ کوئی معقول وجہ ہو سکتی ہے۔اس کے مقابلہ میں دوسرے دوستوں نے جواب میں کہا ہے کہ اگر آمد کم ہے تو کیوں کم ہے۔سوال یہ ہے کہ آیا واقعہ میں اتنی ہی آمدنی ہونی چاہئے یا زیادہ؟ اگر اتنی ہی آمدنی ہونی چاہئے تو ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ بجٹ کو نہیں بڑھانا چاہیئے اور اگر جماعتوں یا افراد کی