خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 144

خطابات شوری جلد دوم ۱۴۴ مشاورت ۱۹۳۷ء میاں بگھا کا لطیفہ مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ہے تو وہ لطیفہ مگر اس سے کم از کم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اُس شخص کو حضرت خلیفہ اول کی ذات پر کس قدر اعتماد تھا۔یہاں ایک نیم عقل کا آدمی ہو ا کرتا تھا۔میاں بگا اُس کا نام تھا، اُس کی بیوی فوت ہوگئی۔بیوی کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کے سامنے وہ جب کبھی آتا آپ فرماتے۔میاں بگا شادی کرنی ہے وہ کہتا ”سوچ دے ہاں ایک دن حضرت خلیفہ اول کہیں سے آرہے تھے، میاں بگا آپ کے ساتھ تھا۔میں بھی اُس وقت اتفاقاً مسجد کی سیڑھیوں سے اُتر رہا تھا۔مجھے دیکھ کر حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے۔لومیاں بگے کی شادی کا انتظام ہو گیا۔پھر فرمانے لگے یہ ابھی مجھے ملا ہے اور اس نے آ کر کہا ہے کہ میری شادی کا پختہ انتظام ہو گیا ہے تھوڑی سی کسر باقی ہے وہ آپ پوری کر دیں۔جب میں (حضرت خلیفہ اوّل) نے اُس سے پوچھا کہ مبارک ہو کہاں انتظام ہوا اور کیا ہوا ہے۔تو اُس نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ نکاح کے لئے میں بھی راضی ہو گیا ہوں اور میری والدہ بھی راضی ہو گئی ہے اب آپ صرف لڑکی اور روپے کا انتظام کر دیں ، تو شادی ہو جائے گی۔فتوحات اور تیاری کی ضرورت یہ ہے تو جنسی کی بات مگر اس سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اُسے یہ خیال تھا کہ صرف میری رضا کی ہی ضرورت ہے، ورنہ حضرت خلیفہ اول اس کی شادی کہیں ضرور کرا دیں گے۔اگر اُس نیم مجنوں کو حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی ذات پر اس قدر اعتماد ہوسکتا تھا تو کیا ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر اتنا اعتماد بھی نہیں رہا؟ ہمارا خدا کہتا ہے کہ مسیح موعود کے ماننے والوں کو ہم دُنیا پر حکمران کر دیں گے اور اُن کے ذریعہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں گے۔دُنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی بات پر یقین ہوتا ہے تو ہم اُس کے مطابق تیاری شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو جب تمہارا کوئی دوست تمہارے پاس آتا اور آکر کہتا ہے کہ میں نے یہ یہ سامان تمہیں تحفہ کے طور پر بھجوایا ہے تو تم سامان آنے سے پہلے ہی اُس کے لئے تیاری شروع کر دیتے ہو۔مثلاً اگر اُس نے گوشت کی ران تحفہ بھیجنے کو کہا ہو تو تم فوراً گھر آ کر کہہ دیتے ہو کہ بی بی! آج گوشت نہ منگوانا ، فلاں دوست کے گھر سے گوشت کی ران