خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 143
خطابات شوری جلد دوم ۱۴۳ مشاورت ۱۹۳۷ء آپ نے میرے خطبات کو نہیں پڑھا؟ میں نے تو اس سے منع کیا ہے۔تو وہ کہتے ہیں پڑھا تو تھا مگر میں نے سمجھا اس کا فلاں مطلب ہے گویا جس طرح کہتے ہیں۔چوں قضا آید طبیب ابله شود اُن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب اُنہیں حرص پیدا ہوتی ہے، اُن کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور وہ سفارش کرانے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں تو کچھ دنوں کی بات ہے میں قادیان آ رہا تھا۔ریل کے اُسی کمرہ میں ایک معزز عہدہ دار میرے ہم سفر تھے۔وہ مجھ سے کہنے لگے میں قادیان کو دیکھنے جا رہا ہوں۔پھر خود ہی کہنے لگے آپ تو قادیان کے بادشاہ ہوئے۔میں نے کہا میں تو کوئی بادشاہ نہیں، بادشاہ انگریز ہیں۔وہ کہنے لگے ہاں مگر آپ کو بھی ایک رنگ کی بادشاہت حاصل ہے۔میں نے کہا اگر اس بادشاہت کا ذکر ہوتو اس میں قادیان کی کیا شرط ہے ویسی بادشاہت تو مجھے ساری دنیا کی حاصل ہے۔آپ نے تو قادیان کا نام لے کر میری بادشاہت کو کم کر دیا۔اس پر وہ کہنے لگے یہ اور قسم کی بادشاہت ہے۔میں نے کہا اور قسم کی بادشاہت مجھے کوئی حاصل نہیں ایک ہی قسم کی بادشاہت مجھے حاصل ہے اور قادیان سے محدود نہیں بلکہ اُس کا تعلق سب دنیا سے ہے۔ہماری ذمہ داریاں تو ہمیں خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لئے دنیا میں کھڑا کیا ہے کہ ہم بادشاہتوں کو الٹ دیں، حکومتوں کو بدل دیں اور سلطنتوں میں انقلاب پیدا کر دیں اور پھر اُن بادشاہتوں ، حکومتوں اور سلطنتوں کی جگہ نئی حکومتیں اور نئی سلطنتیں قائم کریں اور دنیوی حکومتوں کو اپنے ماتحت لا کر انہیں مجبور کریں کہ وہ اُس تعلیم کو جاری کریں جو اسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔لوگوں کو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہوگی مگر ہمیں تو اس میں کچھ بھی عجیب امر نظر نہیں آتا۔صرف یقین کی بات ہوتی۔ہے وہ پیدا ہو جائے تو ناممکن نظر آنے والے امور بھی ممکن بن جاتے ہیں۔لطیفہ یہ ہے کہ اس تقریر کے دوسرے ہی دن بعض دوست جو شوری کے نمائندے تھے یہ اس میں بطور مہمان شامل تھے مجھ سے سفارش کرانے کے لئے آپہنچے۔اللہ تعالیٰ اس نابینے پن اور بہرے پن سے جماعت کو نجات دے۔