خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 142

خطابات شوری جلد دوم ۱۴۲ مشاورت ۱۹۳۷ء جوایمان لاکر سمجھتے ہیں کہ اُن کی پیدائش کی غرض پوری ہوگئی حالانکہ جس دن کوئی شخص احمدی بنتا ہے وہ فوج میں داخل ہوتا ہے۔تم کبھی نہیں دیکھو گے کہ کوئی شخص فوج میں اپنا نام داخل کرا کر گھر چلا جائے اور آرام سے لیٹ جائے مگر کئی لوگ ہیں جو احمدیت میں داخل ہو کر سمجھتے ہیں کہ یہی اُن کا مقصود تھا۔حالانکہ احمدی ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ فوج میں داخل ہوتے ہیں اور کوئی شخص فوج میں داخل ہو کر گھر میں نہیں بیٹھ رہتا بلکہ کام کرتا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں منہمک ہو جاتا ہے لیکن ہمارے فوجی اکثر ایسے ہی ہیں جو نام لکھا کر اپنے گھروں میں چلے گئے ہیں۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں کہ وہ اکیلے نجات دے۔خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ اکٹھی نجات دیتا ہے۔جو لوگ کوشش کرتے اور کام کرتے ہیں خُدا انہیں بخش دیتا ہے لیکن جو لوگ کوشش نہیں کرتے انہیں خدا تعالیٰ کی بارگاہ سے دھتکار دیا جاتا ہے۔دیکھ لوسورہ فاتحہ میں ہی خدا تعالیٰ نے ااِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - ایک اہم نکتہ میں بار بار ہم ہم الفاظ استعمال کئے ہیں، میں میں نہیں سکھایا۔ہم تیری عبادت کرتے ہیں، ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔سب جگہ ہم ہی ہم کے الفاظ ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ نکتہ سمجھایا ہے کہ ہم نے تمہیں اس لئے کھڑا کیا ہے کہ تم سب کو اپنے ساتھ شریک کرو اور کام کرو لیکن کیا ہم اس عظیم الشان مقصد کے لئے وہی کچھ کوشش کر رہے ہیں جو ہمیں کرنی چاہئے؟ میں تو سمجھتا ہوں اس عظیم الشان تغییر کے لئے جن کوششوں کی ضرورت ہے اُن کا ہم عشر عشیر بھی نہیں کر رہے۔بڑے نقص کی بات یہ ہے کہ ہمارے دوست بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف اپنی نگاہ رکھتے ہیں۔مثلاً ایک معمولی سی بات ہے۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ مجھ سے سفارشیں نہ کرایا کرو مگر دوست اس بات کو بھی نہیں سمجھتے اور وہ شخص جو اپنے روحانی مقام کے لحاظ سے اس وقت کے دُنیوی بادشاہوں سے بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی شان رکھتا ہے اُسے کہا جاتا ہے کہ معمولی افسروں کے پاس ہماری سفارش کر دیں اور انہیں خیال بھی نہیں آتا کہ یہ بُری بات ہے حالانکہ اس سے زیادہ شرم کی بات اور کیا ہوگی کہ مجھ سے کسی دنیوی افسر کے پاس سفارش کرائی جائے۔جب میں ایسے دوستوں سے کہتا ہوں کہ کیا