خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 134

خطابات شوری جلد دوم ۱۳۴ مشاورت ۱۹۳۷ء مملکت پر غالب آجاتا اور اپنی افواج لے کر اس میں داخل ہو جاتا ہے تو صرف یہ کرتا ہے کہ اُس ملک کے جو معززین ہوں اُنہیں ذلیل کر دیتا ہے اور جو اس کی اپنی فوج کے معزز افراد ہوں اُنہیں اعلیٰ عہدے دے دیتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اس سے نرالی ہے کیونکہ جولوگ نبی کے ساتھ ہوتے ہیں وہ دُنیا میں معزز نہیں بلکہ ادنی سمجھے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سُنت چلی آئی ہے کہ ابتداء میں انبیاء پر ایمان لانے والے چھوٹے درجہ کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔پس جب انبیاء کے ذریعہ سے تغیر ہوتا ہے تو بڑے چھوٹے ہی نہیں کئے جاتے بلکہ ساتھ چھوٹے بھی بڑے کئے جاتے ہیں۔حالانکہ جب دُنیوی بادشاہ کسی ملک پر حملہ کرتے اور فاتح ہونے کی حیثیت میں اس ملک میں داخل ہوتے ہیں تو وہ صرف یہ تغیر کرتے ہیں کہ وہاں کے بڑے لوگوں کو چھوٹا کر دیتے ہیں اور اپنے بڑوں کو وہاں کا حاکم بنا دیتے ہیں لیکن انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ جب اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت قائم کرتا ہے تو وہ نہ صرف بڑوں کو چھوٹا بنا دیتا ہے بلکہ چھوٹوں کو اُٹھا تا اور اُنہیں بڑا بنا دیتا ہے۔انگریز آئے تو اُن کے ساتھ بڑے بڑے لارڈ اور گورنر آئے ، مغل آئے تو اُن کے ساتھ بڑے بڑے رئیس اور نواب آئے ، پٹھان آئے تو اُن کے ساتھ بڑے بڑے جاگیردار اور سردار آئے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی ہفت ہزاری اور ہشت ہزاری منصب رکھنے والا نہ تھا معمولی حیثیت رکھنے والے لوگ آپ کے ساتھ تھے ، وہی آپ پر ایمان لائے۔اور جب خدا تعالیٰ نے اُن کے ذریعہ سے تغیر پیدا کیا تو ایک رئیس کی جگہ دوسرے رئیس نے نہیں لی بلکہ رئیسوں کی جگہ غرباء اور ظاہر نگاہ میں ادنیٰ نظر آنے والے لوگوں نے۔اور صرف اُس ملک اور اُس علاقہ میں نہیں بلکہ ساری دُنیا میں۔اگر صرف اس ملک میں چھوٹوں کو بڑا اور بڑوں کو چھوٹا کر دیا جاتا تو لوگ کہتے ہمارا اس میں کیا نقصان ہے ریاست تو پھر بھی ہمارے ہاتھ میں رہی مگر خدا تعالیٰ نے انہیں چھوٹا کر دیا اور غیروں کو لا کر بڑا بنا دیا۔نہ صرف مکہ میں بلکہ عراق اور شام اور مصر اور ایران اور ہندوستان اور افغانستان اور روما میں بھی وہ غیر لوگ ہی تھے جو نہ صرف چھوٹے ہونے سے بڑے کئے گئے بلکہ حاکم اور بادشاہ بنا دیئے گئے اور دُنیا کا نقشہ اِس طرح بدل گیا کہ لوگوں کے لئے اصل حقیقت کا سمجھنا ہی مشکل ہو گیا۔