خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 114
خطابات شوری جلد دوئم ۱۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ان حالات میں میں سمجھتا ہوں علاج اور رنگ میں ہونا چاہئے۔قرضہ والی تجویز ایک بوجھ ہو گا اور کارکن مجبور ہوں گے کہ چُستی سے کام لیں تا کہ قرض اتار سکیں مگر سوال یہ ہے کہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعہ موجودہ بوجھ کو دور کیا جا سکے۔ہم اس کو دور کر سکتے ہیں بشرطیکہ جماعت کے مخلص اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اگر چوتھا حصہ بھی جماعت کا عمل کرے تو یقینی بات ہے کہ بوجھ اُتر جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی حکومتیں بھی آمدنی سے نہیں چل رہیں بلکہ قرضوں پر چلتی ہیں۔انگریزوں کی حکومت اتنی بڑی ہے مگر وہ بہت بڑی مقروض بھی ہے۔اس کے مقابلہ کی یونائٹیڈ اسٹیٹس امریکہ کی حکومت ہے وہ بھی مقروض ہے ہم بھی قرض لے سکتے ہیں لیکن ان میں اور ہم میں ایک فرق ہے، وہ سود دیتی ہیں مگر ہم سود نہیں دے سکتے۔یہاں دو بڑے بڑے بینکوں کے نمائندے اس لئے آئے کہ انہیں یہاں اپنے بنک کی شاخ کھولنے کی اجازت دی جائے اور صدر انجمن احمد یہ اپنا روپیہ ان کے ہاں جمع کرائے۔اس طرح وہ صدر انجمن کو لاکھ دو لاکھ جس قد رضرورت ہو قرض دے سکیں گے۔میں نے کہا آپ لوگوں نے سُود لینا ہے اور ہم سود نہیں دے سکتے۔ایک اور بنک والے نے کہا صدر انجمن کے لئے لاکھ دو لاکھ روپیہ قرض دینا کچھ بھی مشکل نہیں۔میں نے کہا آپ کے لئے مشکل نہیں مگر ہمارے لئے مشکل ہے کیونکہ ہم نے سُود نہیں دینا۔ان حالات میں ہم اس قسم کا قرض تو لے نہیں سکتے مگر ایک اور طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ امانت فنڈ زیادہ وسیع پیمانہ پر قائم کیا جائے اور لوگ گھروں میں روپیہ جمع رکھنے کی بجائے وہاں جمع کرائیں۔بنکوں کے جو اعلانات ہوتے ہیں اُن میں لکھا ہوتا ہے کہ :- رقم خزانه سرمایہ بنک ۲۰ کروڑ ۲ کروڑ اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے بنک امانتیں رکھتے ہیں ان میں بہت بڑی رقوم لوگوں کی جمع ہوتی ہیں۔یہاں صدر انجمن میں امانت رکھنے کی تحریک کی گئی تھی اب ۷۰۔۸۰ ہزار کی رقم جمع رہتی ہے۔عام اصول یہ سمجھا جاتا ہے کہ امانت رکھنے والے سو میں سے دس ایک وقت میں واپس روپیہ مانگتے ہیں سوائے خاص حالات کے کہ بنک بدنام ہو جائے اور سب لوگ