خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 108
خطابات شوری جلد دوئم کی گئی۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : - مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کل بعض تجاویز سب کمیٹی کے زیر غور لائی گئی تھیں اور بعض باقی رہ گئی تھیں۔جن کے متعلق میں اب مشورہ لینا چاہتا ہوں۔میں تفصیلاً تو اپنے خیالات بعض امور کے متعلق دورانِ بحث میں یا بعد میں بیان کروں گا مگر میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ معاملہ جس پر ہم غور کر رہے ہیں اس پر دو نقطہ ہائے نگاہ سے غور کیا جا سکتا ہے۔ایک دنیوی نقطہ نگاہ سے اور دوسرے روحانی نقطہ نگاہ سے۔دنیوی نقطہ نگاہ سے ایک لحاظ سے اس امر کو نہایت اہمیت حاصل ہے اور ایک لحاظ سے کچھ بھی نہیں۔دنیا پر نظر رکھنے والا انسان جو اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ ہر حال میں اس جماعت کے کام کو چلانا ہے اور اس کام کو اتنی اہمیت دے گا کہ اس کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے کیونکہ ان حالات میں جو ہمارے ہیں کہ نہ ہمارے پاس حکومت ہے اور نہ طاقت اور نہ آمد بڑھانے کے ذرائع ہیں، اس کے لئے وہ ناممکن صورت میں دیکھے گا اور قلب میں بے چینی اور گھبراہٹ کے آثار محسوس کرے گا اور شاید کہہ سکے کہ ہم ایسی مشکل میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔لیکن ایک اور دُنیا دار جس کے دل میں سلسلہ احمدیہ کی محبت اور اُلفت نہ ہو کہہ سکتا ہے کہ ہم نے ایک کھیل کھیلا تھا جو اب ختم ہو گیا، کوئی مزید فکر اور تر ڈ دکرنے کی کیا ضرورت ہے۔اسی طرح روحانی نقطہ نگاہ سے بھی اس معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ایک لحاظ سے یہ معاملہ نہایت اہم ہے اور ایک لحاظ سے بالکل معمولی۔اگر اس امر کو دیکھا جائے کہ ہماری جماعت جس موجودہ دور میں چل رہی ہے اس کے لئے جو ذ رائع مصلحت یا مجبوری یا احتیاط کے ماتحت اختیار کئے گئے ہیں ان کو جاری رکھنا چاہئے۔تو یہ روحانی نقطہ نگاہ سے بھی نہایت اہم بات ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری جو ہم پر عائد کی گئی ہے اگر اسے پورا نہ کریں تو دُنیا کا کیا انجام ہوگا۔وہ نعمت عظمیٰ جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی بشارت نہ دی تھی بلکہ پہلے انبیاء بھی دیتے آئے ، وہ ہمیں حاصل ہوئی اس کے پھیلانے میں اگر ہمیں کامیابی نہ ہو تو ہمارا کیا حال ہو گا۔پھر ایک روحانی مقام ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کوئی بات نہیں اگر اس ماحول کو