خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 107
خطابات شوری جلد دوئم ۱۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دیتے ہیں مگر پھر بھی کام نہیں سیکھتے ، حالانکہ اس وقت تک ہمارے پاس کئی ہندوؤں کی چٹھیاں آچکی ہیں کہ ہمارے بچوں کو اپنے کارخانوں میں داخل کر کے کام سکھائیے۔ولائت میں بھی کام سکھانے والے کام سیکھنے والوں سے لیتے ہیں مگر یہاں کہتے ہیں مزدوری کم ملتی ہے اور اس وجہ سے بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔جب کہ میرا بتایا ہوا یہ گر استعمال نہیں کیا گیا تو آگے کیا امید ہو سکتی ہے کہ جو بات بتائی جائے گی اُس پر عمل کیا جائے گا مگر میرا کام یہ ہے کہ راہ نمائی کرتا جاؤں۔جب تک جماعت یہ بات محسوس نہیں کرتی کہ نو جوانوں کا بریکاررہنا خطرناک ظلم ہے۔اتنا خطرناک کہ اس سے بڑھ کر اولاد پر اور پھر قوم پر ظلم نہیں ہوسکتا۔میں نے کہا تھا کہ چاہے ایک پیسہ کی مزدوری ملے تو بھی کرو، خواہ کوئی گریجوایٹ ہو جب تک اسے کوئی اور کام نہیں ملتا۔اب اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ اگر ایک پیسہ بھی نہ ملے تو بھی محنت کرو کیونکہ بیکار رہنے کی نسبت یہ بھی تمہارے لئے ، تمہارے خاندان کے لئے اور تمہاری قوم کے لئے بابرکت ہوگا۔یاد رکھو جب تک تم اپنی زندگی کے لمحات مفید بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے اُس وقت تک غالب حیثیت سے رہنے کے بھی قابل نہیں بن سکتے۔غلبہ حاصل کرنے کے لئے کام کرنے بلکہ کام میں لذت محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کسی کو کوئی کام نہیں ملتا تو وہ گھر سے نکل جائے اور وہ سڑکوں پر جھاڑ وہی دیتا پھرے مگر بیکار نہ رہے۔سب کمیٹیوں کو اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے کہ ایسے امور پر غور کیا جائے جن کے ذریعہ جماعت کی آمد بڑھ سکے۔میں کہتا ہوں ایسی تدبیریں ہو سکتی ہیں بغیر کوئی بڑی قربانی کرنے کے مگر ضرورت پختہ ارادہ اور قربانی کے جذبہ کی ہے۔میں اس وقت ان باتوں کو سب کمیٹیوں پر چھوڑتا ہوں۔اس کے بعد بتاؤں گا کہ بعض کام اختیار کئے جا سکتے ہیں اور مشکلات دور ہوسکتی ہیں۔“ تیسرادن مجلس مشاورت کے تیسرے دن ۲۵ /اکتوبر ۱۹۳۶ء کو کارروائی کے آغاز سے قبل دعا