خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 106

خطابات شوری جلد دوئم 1+4 مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کیا جاتا مگر ہم ٹیکس تو بڑھا سکتے ہیں لیکن آمدنی بڑھانے کے کافی ذرائع ہمارے پاس نہیں ہیں۔ہم معذور ہیں، اس لئے قابل اعتراض نہیں مگر باوجود اس کے یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ جماعت کی آمد بڑھائی جائے اگر کسی کام کو کلی طور پر ہم نہیں کر سکتے تو اس کے جُزو کے ترک کرنے میں حق بجانب نہیں ہو سکتے۔مَالَا يُدْرَكُ كُلُّهُ لَا يُتْرَكُ كُلُّه پس ایسے ذرائع اگر ذہن میں آئیں جن سے آمد بڑھ سکے تو ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔گو میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میں نے جماعت کو ایک گر بتا دیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا۔میں نے کہا تھا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو بے کار نہ رہنے دے مگر اب تک سینکڑوں آدمی بیکار ہیں۔میں نے جماعت سے دین کی خدمت کے لئے روپے مانگے اور وہ اس نے دے دیئے لیکن جب میں نے کہا کہ میں تمہارے بچوں کو زندگی دیتا ہوں تو اسے قبول نہ کیا گیا اور جہاں دو متضاد چیزیں جمع ہو جائیں وہاں ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں نے پہلے سے زیادہ مالی قربانی کر کے گویا اپنے آپ کو ایک رنگ میں مار دیا۔ادھر اپنے بچوں کو بیکا ر رکھ کر موت لے لی اور اس طرح دو موتیں جمع ہو گئیں۔حالانکہ میں نے ان کو ایک حیات دی تھی اور وہ یہ کہ اپنے بچوں کو بیکار نہ رکھو۔اسے انہوں نے چھوڑ دیا۔اور جو موت دی تھی وہ لے لی۔اور پھر کہا جاتا ہے کہ بچوں کے لئے کوئی کام نہیں ملتا۔قادیان میں ہی ایک محکمہ بیکاری کو دور کرنے کے لئے ہے مگر وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ہم نے یہاں کئی کارخانے جاری کئے ہیں مگر یہی سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے اور مزدوری تھوڑی ملتی ہے حالانکہ آوارگی اور بیکاری سے تو تھوڑی مزدوری بھی اچھی ہے۔یہ قدرتی بات ہے کہ کام سیکھنے والے سے کام خراب بھی ہو جاتا ہے اور اس طرح کام سکھانے والوں کو نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔اس وجہ سے کام سیکھنے والوں کو کم مزدوری دی جاتی ہے۔کل ہی کام سکھانے والے آئے تھے جو کہتے تھے کہ کام سیکھنے والے لڑکوں نے کام خراب کر دیا ہے۔طریق تو یہ ہے کہ کام سکھانے والے سیکھنے والوں سے لیتے ہیں مگر ہم تو کچھ نہ کچھ