خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 105

خطابات شوری جلد دوئم ۱۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء جائے لیکن اگر کوئی کام خود بخود بند ہو جائے تو ہو جائے مثلاً سکول کے کارکن مخلص نہ ہوں ، چار پانچ یا آٹھ دس ماہ کا بقایا ہو جائے اور وہ مدرسہ چھوڑ کر چلے جائیں اور سکول بند ہو جائے مگر میں جانتا ہوں کہ سکول بند نہ ہوگا۔اگر ہم اسے جاری رکھنے کی کوشش کریں مگر کامیاب نہ ہوں اور کام کرنے والے کام چھوڑ کر چلے جائیں تو ایک دن بھی کام بند نہ ہوگا کہ ان کے قائم مقام جو ان سے بہت زیادہ مخلص ہوں گے مل جائیں گے۔دیکھو! یہ کہیں نہیں آیا کہ ہم نے مومنوں کو روپیہ دیا ہے۔قرآن کریم میں ایسی چیزوں کا نام آتا ہے جن کو خدا نے بنایا ہے۔قرآن نے مال کا نام لیا ہے اور مال روپیہ کو نہیں کہتے بلکہ ہر اُس چیز کو کہتے ہیں جسے ترقی دی جا سکے اور جس سے غلبہ حاصل ہو اور یہ چیز مومن کے پاس ہر وقت موجود ہوتی ہے۔پس میں جانتا ہوں کہ اگر ہمارا کوئی کام بند ہونے لگے تو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ وہ جاری رہے۔لیکن اگر اس کی مصلحت اسے بند ہی رکھنا چاہے تو پھر ہم پر ذمہ داری عائد نہیں ہوگی مگر جسے ہم خود بند کریں اُس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی۔سب کمیٹی کو یہ بات اچھی طرح مد نظر رکھنی چاہئے کہ ہمیں خود کوئی کام بند نہیں کرنا چاہئے اور اگر خود کوئی کام بند ہو جائے تو اس سے ہم ڈرتے نہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے پاس مشکلات کو دور کرنے کے سامان موجود ہیں بشرطیکہ ہمارے کاموں کی بنیاد اخلاص پر ہو۔پھر ہمیں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ گورنمنٹ کے کام میں اور ہمارے کام میں فرق ہے۔گورنمنٹ کے پاس ٹیکس بڑھانے کے ہی سامان نہیں لوگوں کی آمد بڑھانے کے بھی ذرائع ہیں۔جرمنی نے ٹیکس بڑھائے تو ساتھ ہی لوگوں کی آمد بھی بڑھائی ، ترکوں نے ٹیکس بڑھائے تو آمدنی بھی بڑھائی، اٹلی نے ٹیکس زیادہ کئے تو آمدنی کے ذرائع بھی پیدا کئے مگر ہمارے اختیار میں یہ بات نہیں ہے۔ہماری جماعت پھیلی ہوئی ہے اور حکومت ہماری مقدرت میں نہیں ہے اس لئے ہمیں بجٹ بڑھانے کی بنیاد دُنیاوی گورنمنٹوں سے مختلف قرار دینی ہوگی۔ایک حکومت جو ٹیکس بڑھاتی ہے وہ لوگوں کی آمد بھی بڑھاتی ہے اس پر اعتراض نہیں