خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 104
خطابات شوری جلد دوئم ۱۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء درست ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے اس بارے میں میرے قلب پر روشنی ڈال دی تو ہم اس سوال کے حل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں بشرطیکہ جماعت کا معتد بہ حصہ (یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ جماعت میں منافق بھی ہیں اور کمزور بھی ) یعنی مخلصین اس بات کے لئے تیار ہوں کہ وہ ایسی اہم تجاویز پر شرح صدر سے عمل کریں گے جو زندگیوں پر اثر انداز ہونے والی ہیں۔اس طرح ہم نہ صرف پیش آمدہ مشکلات کو دور کر سکیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ، بلکہ پہلے کی نسبت زیادہ ترقی بھی کرسکیں گے۔میں نے تحریک جدید کے شروع میں ہی بتایا تھا کہ الہی سلسلے روپے سے نہیں چلتے بلکہ اخلاص سے چلتے ہیں اس لئے ہم اُسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب کہ ہمارے کاموں کی بنیاد روپیہ پر نہیں بلکہ اخلاص پر ہو۔ہمارے لئے روپیہ کے ذریعہ کام کرنا ناممکن ہے اس لئے غور کرتے وقت یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہمارے کام کی بنیاد روپیہ پر نہیں بلکہ اخلاص پر مبنی ہو۔دیکھو صحابہ کے مقابلہ میں ہماری جماعت کتنی وسیع ہے مگر میں یہ نہیں خیال کر سکتا کہ اس وقت ہمیں کئی لاکھ کی جماعت میں سے دس ہزار سپاہی بھی آسانی سے مل سکتے ہیں کیونکہ آجکل کے لحاظ سے دس ہزار سپاہی رکھنے کے یہ معنے ہیں کہ کم از کم چار پانچ لاکھ روپیہ مہینہ ان پر خرچ کیا جائے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس وقت جب کہ ہماری تعداد کی نسبت آپ کے صحابہ حکم تھے اور کم روپیہ رکھتے تھے ، دس ہزار سپاہی جمع کر لئے۔اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کام اخلاص پر ہوتا تھا، روپیہ پر نہیں، اس وجہ سے آدمیوں کا ملنا ناممکن نہ تھا اور یہ سوال ہی نہ تھا کہ فلاں حد تک ہم قربانی کریں گے اس سے آگے نہیں بلکہ یہ کہا جاتا تھا کہ کوئی حد بندی نہیں، جہاں چاہیں لے جائیں۔چنانچہ بدر کے موقع پر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہم سے آپ کیا پوچھتے ہیں۔یہ سامنے سمندر ہے، ارشاد ہو تو اس میں گھوڑے ڈال دیں یکے اس سے ظاہر ہے کہ مومن دین کے لئے قربانی کرتے وقت کوئی شرط نہیں جانتا بلکہ حکم کا منتظر رہتا ہے اور جب کوئی جماعت اس مقام پر قائم ہو جائے تو پھر روپیہ کی کمی اُس کی ترقی میں روک نہیں بن سکتی۔میں نے کہا ہے کہ میں اس کے لئے تیار نہیں ہوں کہ کوئی جاری شدہ کام بند کر دیا