خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 75

خطابات شوری جلد اوّل ۷۵ مشاورت ۱۹۲۳ء جائیں اور جماعتوں کو اس فتنہ کی اہمیت سے آگاہ کریں اور دیگر مسلمانوں کو بھی بتائیں اسوقت جو رقم چندہ رکھی گئی ہے وہ گل سو روپیہ ہے جن لوگوں کو خدا نے سو دیا ہے وہ سو دیں اور جن کے پاس زیادہ ہے وہ زیادہ دیں۔اس معاملہ کی اہمیت کو سمجھیں اور پھر جس قد ر خدا ان کو توفیق دے دیں۔“ اس کے بعد حضور نے چندہ کا اعلان فرمایا سب سے پہلے جنرل اوصاف علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ سی۔آئی۔اسی کے پانچ سو کے چیک (CHEQUE) کا اعلان فرمایا اس کے بعد احباب نے رقوم پیش کرنا شروع کیں۔جن کی مقدار اُس وقت دس ہزار کے قریب ہو گئی تھی اور ۴ ہزار اس سے پہلے قادیان کا شامل کر لیا جائے تو پندرہ ہزار کے قریب رقم ہو جاتی ہے۔سب کمیٹی تعلیم و تربیت کی رپورٹ پیش ہونے اور بحث ورائے شماری کے تعلیم نسواں بعد حضور نے فرمایا: - عورتوں کی تعلیم کے متعلق جو مشورہ ہوا ہے میں نے اس میں رائے نہیں دی کیونکہ باقی سوالات اُن سوالات کے ساتھ وابستہ تھے۔مثلاً احمد یہ مدارس کا ہونا۔جہاں مدارس نہ ہوں وہاں اپنے مدارس کھولنا۔احباب کی کثرت سے رائے ہے کہ اپنے مدارس ہونے چاہئیں۔اگر اپنے مدارس نہ ہوں تو سرکاری مدارس میں داخلہ لازمی نہ رکھا جائے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ عورتوں کے لئے نصاب کیا رکھا جائے۔اس سال کے لئے اقل سے اقل جو نصاب تجویز ہوا ہے وہ یہ ہے کہ نماز با ترجمہ اور قاعدہ يَسرنا القرآن کی تعلیم ہو اور اس کی تائید میں ایک سو ایک رائیں ہیں اور اس کے خلاف پانچ رائیں ہیں باقی باتیں ہدایتیں ہیں۔قادیان کے سکول کی ترقی کا سوال لوکل حیثیت رکھتا ہے۔جو اہم سوال ہے وہ یہ ہے کہ جماعت میں بتدریج تعلیم کو ترقی دی جائے۔اس میں شبہ نہیں کہ اگر ہم درجہ بدرجہ عورتوں میں تعلیم کو ترقی نہ دیں تو ہم وہ ترقیات حاصل نہیں کر سکتے جن پر جماعتوں کی تمدنی فلاح اور استحکام موقوف ہوتی ہے۔جن بچوں کی مائیں تعلیم یافتہ نہیں ہوتیں اُن کے خیالات میں وہ درخشانی نہیں ہوتی جو اُن بچوں کے