خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 74

خطابات شوری جلد اوّل ۷۴ مشاورت ۱۹۲۳ء ہے۔پس جو خدا سے ملنا چاہتا ہے اس کو کانٹوں کی نہیں تلواروں کے زخموں کی برداشت پیدا کرنی چاہئیے۔جو خدا کو چاہتا ہے وہ تلوار کے گھاؤ کھانے کے لئے تیار ہو، وہ جان دینے کے لئے تیار ہو۔فی الحال تین مہینہ کے لئے زندگی وقف کرنے کا مطالبہ ہے۔ممکن ہے کہ ان سے اس سے زیادہ وقت کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے۔وہ جنہوں نے پچاس ہزار دینا ہے ممکن ہے کہ وقت آنے پر ان کو وہ سب کچھ دینا پڑے جو ان کے پاس ہو۔لیکن میں کہتا ہوں ہم کیا دیں گے اپنا کچھ بھی نہیں جو ہو گا وہ خدا کا ہوگا۔ہم بیعت کے وقت اقرار کر چکے ہیں کہ دین کو دُنیا پر مقدم کریں گے۔اس لئے اگر ضرورت ہو تو سب کچھ دیں اور اب امتحان کا وقت ہے۔ہمارے سامنے صرف ملکانوں کا سوال نہیں سارے ہندوستان کو مسلمان بنا لینے کا سوال ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے۔ہے کرشن رو ڈ رگو پال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔گیتا میں آپ کا ذکر اسی لئے تھا کہ آپ کے ذریعہ ہندوؤں میں تبلیغ اسلام ہو۔یہ خدا نے تین ہزار سال پہلے ہمارا فرض ٹھہرا دیا ہے کہ ہم ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کریں گے۔ہمیں اُس وقت تک ہندوستان میں کام کرنا ہے جب تمام ہندوستان میں متحدہ طور پر یہ آواز بلند ہو۔وو غلام احمد کی جے اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک ہندو اقوام بحیثیت جماعت کے اسلام میں نہ داخل ہوں۔اگر ہم ساری دُنیا کو بھی مسلمان بنا لیتے اور اس طرف توجہ نہ کریں تو ہمارا فرض ادا نہ ہوتا۔پس وقت ہے کہ جو لوگ جس قدر قربانی کر سکتے ہیں کریں اور تیار رہیں کہ ابھی ان کو اور بھی خدمت اور قربانی کے موقع ملیں گے۔اسلام پر نازک وقت ہے یہ ہنسی کا وقت نہیں جس طرح ماں مرجاتی ہے اور نادان بچہ اس کے منہ پر طمانچے مارتا ہے کہ ماں تو کیوں مخول کرتی ہے۔اگر اس کو معلوم ہو کہ ماں مخول نہیں کرتی مرگئی ہے تو اس کا کیا حال ہو گا۔تم خود سمجھ لو۔اسی طرح اسلام پر دشمن کا جو حملہ ہے اگر اس کو پورے طور پر سمجھ لیا جائے تو کوئی قربانی اس کے انسداد کے لئے مسلمان اُٹھا نہ رکھیں۔پس وقت ہے میں جانتا ہوں کہ لوگوں میں اخلاص ہے علم نہیں جب تک دوسرں کو اس خطرہ کی اہمیت کا علم نہ دیا جائے وہ قربانی کے لئے تیار نہیں ہو سکتے پس جو یہاں موجود ہیں ان کا فرض ہے کہ اپنے اپنے مقامات پر