خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 73
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۷۳ مشاورت ۱۹۲۳ء اگر مسلمان اس طرح اس کے ملک میں غیر محفوظ ہیں تو وہ کیا کرتا ہے۔ایک مسلمان نے یہ پیغام سنا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا دیا۔گو اس وقت مسلمانوں کی سلطنت کمزور ہو رہی تھی مگر ان میں ایمان باقی تھا۔بادشاہ نے جونہی اس عورت کا پیغام سنا اس نے تلوار اُٹھائی اور لبیک لبیک کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہو، ملک کے لوگ اس کے ساتھ شامل ہوئے اور وہ اس عورت کو چُھڑا لائے۔جب ایک عورت کے لئے جو کلمہ پڑھتی تھی ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے جسم کو ہلاکت سے بچائے۔تو جب ہم دیکھیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ کو ماننے والوں کی روحیں ہلاکت کی طرف لے جائی جا رہی ہیں اس وقت ہماری ذمہ داری کتنی بڑی ہوئی ہے۔کیا ہم اس لئے پیچھے رہیں گے کہ وہ غیر احمدی ہیں۔کیا ہم اس لئے ان کو ارتداد سے بچانے نہ جائیں گے کہ ان کے مولوی ہمیں کا فر اور ہمارے آقا مسیح موعود کو دجال کہتے اور ہمیں ہر ایک قسم کا نقصان جو وہ پہنچا سکتے ہوں پہنچانا عین ثواب خیال کرتے ہیں؟ ہمارا فرض ہے کہ ہم اشاعتِ اسلام کے لئے کھڑے ہوں اور اس راہ میں جو بھی قربانی کرنی پڑے وہ کریں نہ صرف ان مسلمانوں کو ارتداد سے بچائیں بلکہ اُن کو بھی اسلام میں لائیں جو ان کو اسلام سے چھین کر لے جانے کے درپے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ضرب ہے۔اس سے مسلمانوں کو بیدار ہونا چاہئیے۔ہم کو چاہئیے کہ ملکانوں کو ارتداد سے بچائیں مسلمانوں کو ان کے فرض سے آگاہ کریں اور ہندوؤں کو اسلام میں داخل کریں۔اب ہماری جماعت کے اخلاص دکھانے کا موقع ہے۔اب تک ہمیں جان قربان کرنے کے مواقع نہیں ملے تھے مگر اب یہ دروازے کھل گئے ہیں ان پر افسوس ہو گا جو داخل نہ ہوں۔خدا کی طرف سے ایک دفعہ دروازے کُھلا کرتے ہیں جو انکار کر دیں وہ محروم ہو جایا کرتے ہیں۔حضرت موسیٰ کی قوم کے لئے اللہ تعالیٰ نے الہام کا دروازہ کھولا مگر وہ لوگ ابتلاؤں سے ڈر گئے۔اس لئے ان کو الہام سے محروم کر دیا گیا۔خدا نے کلام کیا۔پہاڑ پر زلزلہ آیا اور وہ ڈر گئے۔حالانکہ نعمتیں مشکلات ہی کے بعد ملا کرتی ہیں۔ایک بیر کانٹے کے بغیر نہیں ملتا۔گلاب کا پھول ملتا ہے مگر ہاتھ میں جب کانٹا چُھ چکے۔جب یہ ادنی چیزیں بھی مشکلات ہی کے بعد ملتی ہیں تو خدا کس طرح آرام سے مل سکتا