خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 72

خطابات شوری جلد اوّل ۷۲ مشاورت ۱۹۲۳ء مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔وہی اسلام جو عام حالات میں چار سو سال میں پھیلتا ، اس نے ہجرت کے بعد بہت ترقی کی۔عرب میں اس واقعہ نے ایک آگ سی لگا دی۔مکہ والوں نے چاہا کہ مدینہ پر جائیں اور وہاں مسلمانوں کو خراب کریں۔وہ چڑھ کر آئے اور ان کو شکست ہوئی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملے والوں کو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ ملک والوں کو ملائیں۔وہ لوگ عرب میں پھیل گئے اور اُنہوں نے اسلام کے مٹانے کے لئے پورے سامان کئے۔پہلے عرب کے لوگ اس کو گھر کی لڑائی خیال کرتے تھے لیکن جب مدینہ پر چڑھ کر آنے سے مکہ والوں کو شکست ہوئی تو ان کو ادھر توجہ ہوئی اور وہ مکہ والوں کے ساتھ متفق ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی اور اس طرح اسلام ان کے گھروں میں گھس گیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بیرونی سلطنتوں نے ، ایرانیوں اور رومیوں نے چاہا کہ مسلمانوں پر حملہ کریں اور مسلمانوں کو عرب کی زمین سے مٹا دیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل میں ڈالا وہ اپنی حفاظت کے لئے اپنے وطنوں سے نکلیں۔ایرانیوں اور رومیوں کے حملوں کو دیکھ کر مجبوراً ان کے مقابلہ کے لئے نکلنا پڑا۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک تدبیر تھی۔مسلمان جو اپنے گھروں سے اپنے قوی دشمن۔سے جان بچانے کیلئے نکلے تھے دشمن پر فاتح ہوئے۔اور دشمن کے ملک ان کے ملک ہو گئے۔یہ ایک تدبیر تھی جس سے اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ مسلمان دُنیا کو فتح کریں۔آج ہمارے لئے ان غیر معمولی سامانوں سے بعض پیدا کئے گئے ہیں۔ہند و تبلیغ کرتے ہیں اور اُنہوں نے ہزاروں ملکانوں کو شدھ کر لیا ہے۔یہ ایسے خطر ناک اور روح فرسا حالات ہیں کہ ان سے روح کا نپتی ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ عام مسلمان اس فرض سے غافل ہیں یعنی وہ نہیں جانتے کہ وہ اس وقت کیا کریں، کس طرح کریں اور اُن کا فرض کیا ہے؟ میں نے تاریخ میں ایک واقعہ پڑھا تھا جس وقت وہ مجھے یاد آتا ہے تو جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک دفعہ عیسائیوں نے مسلمانوں کی سرحد پر چھاپا مارا اور ایک عورت کو پکڑ کر لے گئے۔اس وقت اس نے مسلمان بادشاہ کا نام لیا اور کہا کہ وہ کہاں ہے