خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 71

خطابات شوری جلد اوّل اے مشاورت ۱۹۲۳ء جماعت کے غرباء کا چندہ میزان میں اُمراء سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔اول تو ہماری جماعت میں اُمراء ہیں ہی نہیں، جو ہیں وہ ہماری جماعت کی نسبت سے ہیں اور نبیوں کی جماعتوں کا یہ طریق ہے کہ ان میں ابتداء شامل ہونے والے اور اس کے ناصر غرباء ہی ہوتے ہیں۔اب جیسا کہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ چندہ ذی ثروت احباب سے لیا جائے۔اب یہ فیصلہ ہو جانا چاہئیے کہ کیا رقم معتین کی جائے؟ کیا نام بھی معین کئے جائیں۔بعض صاحبوں نے کہا کہ رقمیں تین قسم کی رکھی جائیں۔سو یا پچاس یا چھپیں۔“ اس پر گفتگو ہونے کے بعد حضور نے فرمایا کہ:- ”میرے نزدیک دوست اپنی اپنی آراء ظاہر کر چکے ہیں اب ووٹ دیں۔۱۲ آراء اس امر کی تائید میں تھیں کہ نام اور رقم مقرر ہو یعنی فلاں شخص اتنا، فلاں اتنا۔۶ آراء اس امر کی تائید میں تھیں کہ رقم مقرر نہ ہو اور آدمی مقرر ہوں۔(۳) اس خیال کے احباب کی رائیں تو ظاہر ہو ہی گئی ہیں جو کہتے ہیں کہ چندہ معین ہو اور نام مقرر نہ ہوں (ایسے احباب کی کثرت نمایاں تھی اس لئے شمار نہیں کیا گیا ) پس کم از کم ایک رقم مقرر کی جائے اور زیادہ کے لئے پابندی نہ کی جائے۔اب دوست بتلائیں کہ کتنی رقم ہو۔“ عام آوازیں آئیں کہ سو روپیہ۔فرمایا :- مالی معاملہ کے متعلق جو مشورہ دیا ہے وہ صحیح ہے اس لئے میں اسے قبول کرتا ہوں میں پسند کرتا ہوں کہ کم از کم سو روپیہ ہی ہو۔اس وقت انہی سے خطاب ہے خواہ وہ امیر ہیں یا غریب جو کم از کم سو روپیہ دے سکتے ہیں زیادہ جس قدر ان کے دل کی آرزو ہو اور باقی بوقت ضرورت تمام جماعت سے لیں گے۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا:- ”میرے خطبے اور تحریروں میں یہ بات آچکی ہے کہ اس فتنہ کی صورت میں خدا نے اپنے سلسلہ کے لئے سامان پیدا کیا ہے۔جب تک خدائی سلسلوں کی ترقی کے لئے عام اور غیر معمولی حالات نہ ہوں اس وقت تک جماعت ترقی نہیں کرتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم