خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 70
خطابات شوری جلد اوّل مشاورت ۱۹۲۳ء اسلام اس کا مطالبہ کرے گا تو ہماری جماعت کے اخلاص پر شک کرنے کی ضرورت نہیں۔پس اگر وہ وقت آ جائے کہ ہمیں اپنی ایک ایک چیز اسلام کی راہ میں صرف کئے بغیر اسلام نہ بچ سکتا ہو تو ہم سب کچھ خوشی سے قربان کریں گے جب ہماری جانیں اس راہ میں قربان ہیں تو جائیدادوں کا سوال ہی عبث ہے پس جب ہم تحریک کو خاص کرتے ہیں تو اس کے معنے ہیں کہ ہم اپنی جماعت کے بڑے حصہ کو ریز رو کرتے ہیں کہ ان سے اس وقت لیں گے جب ضرورت ہوگی اور وہ بڑا حصہ ہوگا۔دلائل دونوں قسم کے احباب نے سُن لئے ہیں۔اب اصحاب رائے دیں۔66 آراء بدیں طور تھیں۔(۱) چندہ خاص کی تائید میں : ۷۵ (۲) چندہ عام والے: ۳۶ (۳) وہ اصحاب جن کی رائے میں ایک حصہ چندہ خاص ہو ایک عام ہو : ۴ فرمایا:- ” میرا میلان طبیعت بھی اُدھر ہے جس طرف آراء کی کثرت ہے۔لفظ ” خاص‘ تشریح طلب ہے۔یہ لفظ کسی خصوصیت کے لئے نہیں بولا جاتا۔میرے نزدیک اگر ایک شخص ایک پیسہ دیتا ہے وہ بھی خاص ہے۔اخلاص کے ساتھ اس کا تعلق نہیں بلکہ یہاں خاص سے صرف یہ مطلب ہے کہ جو ذی ثروت ہیں یا جو ذی ثروت نہیں۔یہ چند لوگ ہیں۔چندہ عام سے یہ مراد نہیں کہ عوام الناس یا ادنی لوگ بلکہ اس کے معنے ہیں ذی ثروت کی قید اُڑا کر تمام جماعت سے چندہ لیا جائے۔پس میں ان کی تائید میں ہوں جو کہتے ہیں کہ یہ پچاس ہزار روپیہ ذی ثروت لوگوں سے لیا جائے اور باقی تمام جماعت کے لوگ جو بڑی رقم نہیں دے سکتے ریز رو ر ہیں۔جس شخص نے یہ دلیل دی ہے کہ چندہ خاص دیا کرتے ہیں اور عوام کا رہ جایا کرتا ہے، یہ جماعت کے اوپر ایک حملہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارا زیادہ چندہ غرباء ہی کی طرف سے آتا ہے۔اس وقت ہم ان کو ریز رو رکھنا چاہتے ہیں کہ جس وقت ہمیں زیادہ چندہ کی ضرورت ہوگی اُس وقت لے لیں گے۔وہ چندہ تھوڑا اس لئے نہیں دیتے کہ وہ زیادہ دینا نہیں چاہتے بلکہ اس سے زیادہ وہ دے نہیں سکتے۔اگر دیکھا جائے تو ہماری