خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 69
خطابات شوری جلد اوّل ۶۹ مشاورت ۱۹۲۳ء کہ اس نازک وقت میں اسلام کی خدمت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔“ حضور نے چندہ خاص کی تحریک کرتے ہوئے پچاس ہزار روپیہ کی رقم مقرر چندہ خاص فرمائی تھی۔اس کے متعلق تین باتیں زیر غور آئیں :- (۱) چندہ عام ہو۔(۲) خاص لوگوں سے لیا جائے۔(۳) کہ رقم مقرر ہو جائے۔ان کی بابت جب نمائندگان شوری اپنی آراء دے چکے تو حضور نے فرمایا : - اس وقت جو سوال در پیش ہے وہ یہ ہے کہ پچاس ہزار روپیہ کس طرح وصول کیا جائے؟ اس کے لئے مختلف صورتیں پیش کی گئیں۔کسی نے کہا اگر جوش سے اس وقت فائدہ نہ اُٹھایا گیا تو فائدہ نہ ہوگا۔جو خاص چندہ کی تحریک کی تائید میں ہیں وہ اس کو قسط اول کہتے ہیں اور کہتے ہیں اس کے بعد عام لیا جائے۔بیچ میں یہ بھی سوال ہے کہ فوراً ہونا چاہئیے۔یہ کہنا کہ جماعت میں اگر عام تحریک ہوئی تو کامیاب نہ ہو گی یہ جماعت کی ہتک ہے۔بے شک ہماری جماعت کمزور ہے مگر اس کا اکثر چندہ غرباء ہی کی طرف سے آیا ہے۔یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کا ہے اللہ تعالیٰ خود اس کا متولی ہے۔ہر ایک کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہتی ہے۔اس میں نہ جماعت کا دخل ہے نہ خلیفہ کا بلکہ اس کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی بہم پہنچاتا ہے اور جن کی ضرورت ہوگی غیب سے اس کے سامان ہو جائیں گے۔گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔یہ تو پچاس ہزار کا سوال ہے۔اگر ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ نہایت آسانی سے پچاس لاکھ روپیہ ہم کر دے گا۔کوئی سچا سلسلہ مالوں کی کمی سے تباہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔اگر جماعت کے لوگوں کی ہی جائیداد کا اندازہ کیا جائے تو بارہ لاکھ کی کم از کم جائیداد تو قادیان میں احمد یوں ہی کی ہوگی۔اور خود ہماری ذاتی جائیداد کا اندازہ کیا جائے تو دو لاکھ کی ہوگی۔اگر اسلام کے لئے اس کی ضرورت ہو تو ہم ایک منٹ کے لئے بھی اس کو اپنے قبضہ میں نہیں رکھیں گے اور ہماری ہندوستان کی ساری جماعت کے اموال و جائیداد کا اقل اندازہ دو کروڑ ہوگا۔اگر