خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 67

خطابات شوری جلد اوّل ۶۷ مجلس۔مشاورت ۱۹۲۳ء ” یہ سوال جو اس وقت پیش ہے اس پر تین قسم کے خیالات ہیں۔اُن سے معاہدہ لیا جائے ، ان کو لیا ہی نہ جائے اور ان کی تعداد بیس فیصدی رہے کہیں نہ بڑھے۔بعض کہتے ہیں کہ شرائط مطبوعہ سے زیادہ شرائط عائد نہ کی جائیں۔بعض کہتے ہیں یہ شرطیں اب بڑھائی جاتی ہیں جو درست نہیں۔پیشتر اس کے کہ میں اس کے متعلق فیصلہ کروں، میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ مشورہ اِس امر کے متعلق دیا جا سکتا ہے جس کے متعلق میں طلب کروں جو میں نے فیصلہ کر دیا ہو اس کے متعلق مشورہ نہیں ہو سکتا پس یہ بات تو فیصل شُدہ ہے کہ غیر احمدی ہم سے مل کر کام کر سکتے ہیں کیونکہ میں قبل از وقت اعلان کر چکا ہوں۔اب رہے دوسرے امور کہ ان کو کس طرح لیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق لفظی بیچ ہے۔شرط زبان عربی کا لفظ ہے۔اُردو میں ہدایت کے معنوں میں بھی استعمال کرتے ہیں لیکن عربی میں ایسا نہیں پس جن دو آخری باتوں کو یہاں شرطیں قرار دیا گیا ہے یہ شرطیں نہیں احتیاطیں یا ہدایتیں ہیں۔شرط تو صرف یہ ہے کہ وہ ہمارے ماتحت کام کریں گے۔یہ بات شرط نہیں ہے کہ ہم اُن کے متعلق تحقیقات کریں کہ وہ کیسے لوگ ہیں اور کس غرض سے شامل ہوتے ہیں اور یہ بات بھی ان سے تعلق نہیں رکھتی کہ ان کی تعداد ہمارے آدمیوں سے کسی جگہ نہ بڑھے۔اس کا تعلق ہمارے کارکنوں سے ہے۔بعض نے کہا ہے کہ دونوں سے تحریر لی جائے۔علیحدہ تحریر کی ضرورت نہیں کیونکہ میں کسی کی بھی زبانی درخواست قبول نہیں کرتا۔احمدی بھی تحریری درخواست دیتے ہیں اور جو غیر احمدی اس کام میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے وہ بھی تحریری درخواست دیں گے۔اب ایک یہ سوال ہے کہ ہم ان کو کیوں بلاتے ہیں؟ اس کے جواب میں ایک صاحب نے کہا ہے کہ تا ان پر ظاہر ہو کہ ہم کس طرح کام کرتے ہیں لیکن یہ پیغام میں نے دیا ہے اور میں ہی بتا سکتا ہوں کہ میں نے کس نیت سے دیا ہے۔سو یہ غلط ہے کہ ہم ان کو اپنا کام دکھانا چاہتے ہیں بلکہ میری نیت اور غرض محض یہ ہے کہ جس قدر زیادہ کام کرنے والے آدمی ہوں گے اُسی قدر کام ہو گا۔دشمن کا حملہ قوی ہے ممکن ہے کہ تعداد کے لحاظ سے وہ ہمارے سنبھالے نہ سنبھلے لیکن جب وہ ایک قوم ہے جو لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ