خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 66

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۶۶ مشاورت ۱۹۲۳ء بقیہ سوالات میں سے ایک بات رہ گئی تھی۔معذوروں کے متعلق بحث تھی معذوروں میں وہ احمدی بھی سمجھے جائیں گے جو ہندوستان کے باہر غیر ملک کے رہنے والے والے ہیں وہ بھی اپنی طرف سے خرچ دے سکتے ہیں افریقہ، عراق، مصر، عرب وغیرہ علاقوں کے احمدیوں کے متعلق بھی یہی سمجھا جائے گا۔ایک اور ضروری بات ہے جو رہ گئی ہے گو اس کا ایجنڈے سے تعلق نہیں ہے مگر انتظام کے لئے اس پر عمل کیا جانا ضروری ہے اور اس پر عمل کرنے سے فائدہ ہوگا اور اس سے دوسرے کام کی واقفیت ہو گی۔میں نے جب نظارتوں کے متعلق اعلان کیا تھا تو لکھا تھا کہ کچھ لوگ ایسے ہوں جو وقتاً فوقتاً ان محکمہ جات کا معائنہ کرتے رہیں کہ کام درست ہو رہا ہے یا نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ یہاں کام کرتے ہیں دیانت دار ہیں، قربانیاں اُنہوں نے کیں مثلاً ان میں بعض گریجویٹ ہیں اور وہ ۳۰ ، ۳۰ روپیہ ماہوار گزارہ لے کر یہاں کام کر رہے ہیں اور جو اُن سے کم قابلیت اور استعداد کے لوگ ہیں وہ زیادہ تنخواہ لیتے ہیں اور پھر بعض لوگوں کے پاس کئی کئی کام ہیں مثلاً قاضی اکمل صاحب کے پاس چار پانچ کام ہیں پس یہاں کے احباب قربانی، دیانت سے کام کرتے ہیں جہاں تک میں جانتا ہوں لیکن اگر واقف کار لوگ بعض اوقات ان کے دفاتر کا معائنہ کریں تو غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اس کے لئے میں احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ دفاتر کے معائنہ بغرض اصلاح کے لئے احباب جو دفاتر کے کام سے واقف ہوں اپنے نام پیش کریں۔“ اس پر بعض نام پیش کئے گئے اور پھر پیغام اتحاد کے متعلق تجاویز پیش ہونا شروع ہوئیں۔پہلی تجویز غیر احمدیوں کو بلانے کے متعلق یہ تھی کہ :- (1) اُن سے ایک معاہدہ لیا جائے۔(۲) جس علاقہ کے غیر احمدی ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیں وہاں کے ذمہ وار احمدی احباب سے ان کے متعلق دریافت کیا جائے۔(۳) کسی جگہ غیر احمدیوں کی تعداد احمدی مبلغوں سے زیادہ نہ ہو۔حضور نے اس کے متعلق فرمایا کہ:-