خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 61
خطابات شوری جلد اوّل ་་ مشاورت ۱۹۲۳ء تا کہ اس کے منشاء کے ماتحت کام کر سکیں۔“ رپورٹ ناظر صاحب بیت المال ناظر بیت المال کی رپورٹ کارگزاری کے پیش ہونے اور سوال وجواب کے بعد بعض اور احباب نے بھی تقریریں کیں۔ان کے بعد حضور نے فرمایا : - افسوس ہے بہت سے دوستوں نے سمجھا نہیں کہ رپورٹ پر تنقید کے کیا معنے ہیں۔شیخ یعقوب علی صاحب، خانصاحب منشی فرزند علی صاحب نمائندہ سیالکوٹ اور نمائندہ اٹک اور شیخ کرم الہی صاحب پٹیالہ ان کی تقریریں اس وقت کے مطلب کے مخالف ہیں۔ناظر بیت المال نے رپورٹ پیش کی ہے۔اس پر اس طرح تنقید ہونی چاہئیے تھی کہ اس میں جو بتایا گیا ہے کہ فلاں بات ہوئی اور اس طرح ہوئی اگر اس میں غلطی ہوتی تو اس کی اصلاح کرائی جاتی۔اور پھر زکوۃ کا سوال الگ ہوتا اور اس کے متعلق تجاویز الگ ہیں جب تک کسی بات کا فیصلہ نہ ہو نا ظر بیت المال کسی بات کے متعلق جوابدہ نہیں ہو سکتا۔اب میں کچھ اور بیان کرتا ہوں۔شیخ یعقوب علی صاحب کا لہجہ اطلاع حاصل کرنے کا نہ تھا یہ پارلیمنٹ نہیں ہے کہ اس میں ایک فریق کو دوسرے کے خلاف اُبھارنا ہے بلکہ یہ مجلس مشاورت ہے اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو تو اس کے متعلق سوال کیا جا سکتا ہے اعتراض نہیں کیا جا سکتا بعض لہجوں کا بھی اثر ہوتا ہے گو اُن لوگوں کی نیت یہ نہ ہو جو اُن کے لہجہ سے ظاہر ہوتی ہو مگر عادت کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے۔مثلاً جب یہ آیت نازل ہوئی کہ رسول کے سامنے بلند آواز سے نہ بولو تو ایک صحابی جن کی آواز بلند تھی چُپ ہو گئے اور مجلس میں آنا بند کر دیا کہ میں منافق ہوں میری آواز اونچی ہے مگر پھر ان کو سمجھایا گیا پس اگر بلند آواز سے ایسے لہجہ میں بولنے کی عادت ہو تو اپنے لہجہ اور آواز پر قابو رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جو بات شیخ صاحب نے پوچھی ہے وہ دفتر سے متعلق ہے اس کا جواب یہاں دینا ضروری نہ تھا کیونکہ وہ دو تین سال انجمنوں سے الگ رہے ہیں اگر ان کو علم نہ ہو تو اس کا جوابدہ ناظر نہیں ہوسکتا۔