خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 55
خطابات شوریٰ جلد اوّل مشاورت ۱۹۲۳ء ایمانی حالت میں ترقی یافتہ ہو۔غرض اس وقت عورتوں کی تعلیم کا مسئلہ در پیش ہے۔اس کے لئے سکیم تو بڑی سے بڑی بھی ہو سکتی ہے مگر ہمیں فی الحال ایسی سکیم کی ضرورت ہے جس پر ہم اس سال میں عمل کر سکیں۔کسی قوم اور جماعت کے سارے لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ادنیٰ تعلیم یہ ہے کہ ہم اپنی جماعت کی مستورات کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔پھر قادیان میں اعلیٰ تعلیم کا بھی سوال ہے کہ جماعت کی مستورات کو اعلیٰ دینی تعلیم دی جائے۔(۲) سوال یہ ہے کہ عورتوں کی انجمنیں بنائی جائیں اس قسم کی ہم مذاق عورتیں جمع ہوں اور وہ دین کی خدمت اور دین کی معلومات پر غور کریں۔پہلے بعض انجمنیں بنائی گئیں وہ ٹوٹ گئیں۔پھر اب لجنہ اماء اللہ (اللہ کی لونڈیوں کی انجمن ) کے نام سے ایک انجمن یہاں بنائی گئی ہے۔میں نے اس کی تحریک رسالہ احمدی خاتون میں جس کا میں نے اب نام تأديب النساء “ رکھ دیا ہے شائع کرا دی۔اس میں غلطی سے یہ میری طرف منسوب کر دی گئی دراصل یہ میری منجھلی بیوی کی طرف سے ہے جو حضرت خلیفہ اول کی لڑکی ہیں۔اس میں عورتوں کے لئے آسانی ہے اور پہلے اسے عام نہیں کیا گیا۔“ اس کے بعد حضور نے رسالہ تادیب النساء سے لجنہ اماء اللہ کے قواعد پڑھ کر سنائے۔پھر فرمایا کہ:- لجنہ اماءاللہ کی ممبر عورتوں کے فرائض میں یہ داخل ہے کہ غریبوں کی مدد کریں، خود لیکچر دیں، عام مضامین لکھے جائیں۔میں نے لجنہ اماءاللہ کے ہفتہ وار جلسوں میں علوم کی فہرست اور ان کی مختلف کیفیت بتائی ہے کہ اس وقت دنیا میں اتنے علوم کام کر رہے ہیں اور یہ بات انہی پر چھوڑ دی کہ وہ ان علوم میں سے جو علوم چاہیں ہم اس کے ماہر سے ان کے لئے لیکچر دلوائیں گے تاکہ ان کی معلومات اور علم وعمل میں بہتری اور ترقی ہو۔اس میں یہ بھی رکھا ہے کہ اس کی ممبر مستورات خواہ وہ امیر ہوں یا غریب مل کر کھائیں اور پھر یتامی اور غرباء کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلائیں اور اُن کی خدمت کریں۔یتیم بچے جو کسی جماعت کا اچھا حصہ بن سکتے ہیں جب وہ ہر طرف سے سختی اور بے مہری دیکھتے ہیں تو اُن کے دل سے محبت اور نرمی غائب ہو جاتی ہے۔پس جب وہ ان کو بلائیں گی ، اُن کی خدمت کریں گی اور ان سے حُسنِ سلوک سے کام لیں گی تو ان میں بھی اچھے احساسات پیدا ہوں گے اور ان کی