خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 54

خطابات شوری جلد اوّل ۵۴ مشاورت ۱۹۲۳ء یہ گونڈ بھیل کون ہیں؟ یہی ہندوستان کے بادشاہ تھے لیکن خدا نے اُن کو چھوٹا کر دیا مگر خدا ان کو بڑا کرنا چاہتا ہے۔آج اگر ہم بادشاہی بھی لے لیں مگر مسلمان نہ رہیں تو یہ بادشاہی ہمارے کس کام کی۔پس اس وقت ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ خدا سے بچھڑے ہوئے خدا سے مل جائیں۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ: - اُمور مشورہ طلب یہ ہیں۔ا۔عورتوں کی تعلیم کے متعلق کیا انتظام کیا جائے اور ان کی انجمنیں بنانے کے متعلق کیا طریق اختیار کیا جائے ؟“ عورتوں میں تعلیم کم ہے۔پھر سوال ہے کہ تعلیم ہونی چاہئے۔عورتیں ہمارا فالج زدہ حصہ نہیں ہیں۔پھر یہ کہ کس قسم کی تعلیم ہونی چاہئے۔ہم مردوں کی تعلیم کے لئے مجبور ہیں کہ سرکاری عہدے نہیں مل سکتے مگر عورتوں کے لئے ہمیں یہ مجبوری نہیں۔عورتیں مردوں کے کام نہیں کر سکتیں جب تک وہ شادی بیاہ ترک نہ کریں۔مگر اسلام اس کو نا پسند کرتا ہے کہ عورتیں شادی نہ کریں۔پس عورتوں کے لئے بہت مجبوریاں ہیں۔حمل ہے ، وضع حمل ہے، بچہ کی پرورش ہے۔مگر جب عورتیں نوکری کے لئے نکلیں گی تو ان کے ان طبعی کاموں میں رُکاوٹ ہوگی اور ان کا خاوندوں کے ساتھ رہنا مشکل ہو گا۔پس یہ واضح بات ہے کہ عورت کا کام گھر میں ہے۔عورتوں کے ہاتھ میں جماعت کی زندگی ہے۔عورت بچوں کو ایسے طریق پر پرورش کر سکتی ہے کہ بچے دین کے خادم اور مخلص ہو سکتے ہیں۔ضرورت ہے کہ عورت اپنے گھر کے فرائض سے واقف ہو اور اسلام نے اس کے جو فرائض رکھے ہیں اُن سے بھی آگاہ ہو۔ہمارے لئے احمدیت ایک قیمتی ورثہ ہے۔ہماری عورتیں اگر اپنی اولاد میں دین کو پختہ کر دیں تو وہ بڑا کام کریں گی۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو دین میں پختہ کر دیں اور ہماری نسلیں ہم سے زیادہ دین کی پابند ہوں۔علوم نے ترقی کی ہے۔مفید علوم سے ان کو واقف ہونا چاہئے تاکہ وہ اولاد کو اُن کی ابتدائی باتوں سے آگاہ کر لیں۔مثلاً سائنس ، جغرافیہ وغیرہ۔جو بچہ اپنی ماں سے یہ سُنے گا کہ زمین گول ہے اُس کو مدرسہ میں اس بات کے سمجھنے میں دقت نہیں ہوگی۔جس طرح علوم ترقی کرتے ہیں اور پہلے علوم غلط یا ان کے سامنے نکتے ہو جاتے ہیں ایمان میں بھی ترقی ہوتی ہے۔چاہئے کہ ہماری اولاد ہم سے