خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 53

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۵۳ مشاورت ۱۹۲۳ء تھوڑا ہے جو بعض چھوٹے مقامات سے آیا ہے پس ضرورت ہے کہ عورتوں کو دین کی ضروریات سے واقف اور آگاہ کیا جائے۔اگر عورتوں میں دین کی خدمت کا ولولہ نہیں تو اس کے معنے ہیں کہ ہمارا آدھا جسم مفلوج ہے اگر عورتوں میں روح پیدا ہو جائے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ایک ضرب میں ہماری طاقت دُگنی ہو سکتی ہے۔پچھلے سال تحریک ہوئی تھی کہ چوہڑے چماروں میں تبلیغ اسلام کی جائے۔مگر یہ لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوئے جب کہ اس کے مقابلہ میں ہزاروں لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ لوگ بڑے عالم اور اپنے ایمان میں پختہ ہیں اور باقی دنیا سے ترقی یافتہ ہیں؟ یا یہ خیال کیا جاوے کہ وہ نالائق ہیں؟ لیکن میں اس خیال کو نہیں مان سکتا۔وہ لوگ وہی کام کر سکتے ہیں جو دوسرے کرتے ہیں۔ان میں عقل و تہذیب ایسی ہی ہوسکتی ہے۔نہ وہ ایسے کم عقل ہیں کہ اُن پر اثر نہ ہو نہ وہ فلسفی ہیں۔حالت یہ ہے کہ پنجاب میں احمدیوں کی نسبت چوہڑے عیسائی زیادہ ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ لوگوں نے اس بات کو نہیں سمجھا۔میں جب سوچتا ہوں تو بعض اوقات خیال آتا ہے کہ ممکن ہے کہ آدم کے بڑے فرزند کی اولاد چوہڑے ہوں اور چھوٹے کی ہم ہوں۔ممکن ہے وہ رشتہ میں بڑے ہوں۔وہ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک مجرم ہیں جو ان کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور تبلیغ نہیں کرتے۔میرے نزدیک ایک مسلمان چوہڑا اُس بادشاہ سے بہتر ہے جو مسلمان نہیں۔۔۔۔پس ا میں اور غیروں میں فرق تمدن کا ہے لیکن اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اب میں تمام جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ زمیندار لوگ اور دوسرے ذی اثر لوگ ان کو تبلیغ کریں۔ممکن نہیں کہ پھر وہ اسلام میں داخل نہ ہوں۔ان کی اولادیں ایسی ہی اچھی ہوں گی جیسے کہ شائستہ پڑھے لکھے لوگوں کی اولاد ہوتی ہے۔آج اگر زمیندار یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے ان کو مسلمان بنایا تو وہ ہمارے کام کیسے کریں گے میں کہتا ہوں کہ ہم جنگل میں پاخانہ کے لئے چلے جائیں گے مگر ان کو مسلمان بنا ئیں گے۔اگر ہم ان کو اسلام میں نہیں داخل کریں گے تو وہ آریہ یا عیسائی ہو جائیں گے اور اُس وقت ان کا بُوٹ مسلمانوں کے سر پر ہو گا۔اگر یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا سے بچھڑے ہوئے کو خدا سے ملانا بڑی بات ہے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ سیاست کے نقطہ نگاہ ہی سے اس کام کو کریں۔