خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 46
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۴۶ { مشاورت ۱۹۲۳ء نمائندے آئے ہیں لیکن ابھی کم ہیں۔یہ بات کسی شستی کی وجہ سے نہیں کیونکہ مشورے کے علاوہ دوسرے وقت میں شامل ہوتے ہیں۔اب بھی نمائندوں کی نسبت ایسے لوگ زیادہ ہیں جو سننے آئے ہیں۔جب بھی کوئی تقریر ہو تو سب لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔پھر عام لوگ جلسہ پر زیادہ ہوتے ہیں اور اِس کثرت سے ہوتے ہیں کہ رات کے ۱۲ بجے تک مصافحہ کرتا ہوں اور پھر بھی مصافحہ ختم نہیں ہوتا۔چنانچہ آج ایک صاحب ملے اُنہوں نے کہا چارسال ملنے کی کوشش کرتا رہا ہوں مگر نہیں مل سکا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مشورہ میں شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔پس مشورہ میں زیادہ تعداد میں نہ آنے کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ خلیفہ کی موجودگی میں مشورہ کی ضرورت نہیں سمجھتے لیکن خلیفہ کے باوجود مشورہ کی ضرورت ہے۔اور بہت لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تحریک خلیفہ کے خلاف ایک بغاوت ہے مگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ تحریک خلیفہ کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ اس کی تحریک مجھ سے ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے ہوئی اور باوجود خلافت کی موجودگی کے مشورہ کی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے پچھلے سال کہا تھا کہ کوئی خلافت مشورہ کے بغیر نہیں۔اب بھی یہی کہتا ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو کلمہ پڑھتا ہے اُس پر ایک دفعہ ذمہ واری عائد ہو جاتی ہے اور وہ اسلام کی ذمہ واری ہے۔اُس کو اس سے غرض نہیں کہ اس کام کو اور بھی کرنے والے ہیں بلکہ وہ یہی سمجھے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وہی ذمہ وار ہے اور اس لئے ہر ایک مسلمان خلیفہ ہے۔جو مسلمان اپنے آپ کو خلیفہ نہیں سمجھتا وہ مسلمان نہیں۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ دس لاکھ میں سے ایک ہے اور اُس کو دس لاکھواں حصہ ادا کرنا چاہئے بلکہ وہ سمجھے کہ وہ دس لاکھ ہی کا قائم مقام ہے اور یہ کام سارا اُسی کا ہے۔اُس کا فرض ہے کہ وہ پورا کام کرے اور اس میں سے جس قدر کام کی اس میں طاقت نہیں اللہ تعالیٰ اُس کو معاف کرے گا اور اُس سے اس کی باز پرس نہیں ہوگی۔خلافت کے قیام کی ضرورت انتظام کے لئے ہے کیونکہ تقسیم عمل نہیں ہو سکتی جب تک ایک انتظام نہ ہو۔ممکن ہے کہ سب زور دیں مگر ان کا زور ایک ہی کام پر خرچ ہو رہا ہو اور باقی کام یونہی بے توجہی کی حالت میں پڑے رہیں۔پس جب تک ایک مرکز نہ ہو اُس