خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 42
خطابات شوری جلد اوّل ۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء اور اس کے خلاف ہو جائے۔مالی پہلو کا سوال جو ہے میرے نزدیک جہاں اور اخراجات برداشت کرنے ہیں وہاں یہ بھی ہے۔جہاں بعض بد معاش ایسے آجائیں گے وہاں کے نو جوانوں کو بھی خراب کرتے ہیں اور باہر کے آئے ہوئے لوگوں کو بھی ایسے لوگوں کو نکالنا چاہئیے مگر ان کے لئے کوئی قانون نہیں بنا سکتے کہ اس کے ماتحت نکل جائیں۔اس لئے یہ ہو کہ اوباش، بدمعاش جو بچوں کے اخلاق بگاڑنے والے یا شرارت کرنے والے ہوں ایسے لوگوں کو نکال دینا اور روکنا چاہئیے۔مگر کوئی حد بندی اور قانون سے ہونا چاہئیے کہ جن کو ہم نے بلانا ہے اُن کی ہتک کر کے گناہ کے مرتکب نہ ہو جائیں۔اس کے لئے یہی ہے کہ فہرست پیش ہوتی رہے۔خلیفہ اول کے وقت بھی ہوتی تھی اور میں خود پیش کرتا رہا ہوں۔اب بھی اگر متواتر پیش ہو تو اصلاح ہوسکتی ہے۔باقی رہے وہ لوگ جو یہاں محنت مزدوری کے لئے آتے ہیں اور لنگر سے کھاتے ہیں اس وقت ان کی زندگی کو بہتر بنانے کا سوال ہے اس لئے یہ ہونا چاہئیے کہ اگر وہ رات دن کام کرنے لگ جاتے ہیں تو مہمان نہیں اور اگر فارغ بیٹھے رہتے ہیں تو یہ اُن کا قصور نہیں ہمارا ہے کہ ہم ان کی تعلیم کا انتظام نہیں کرتے۔تو یہ انتظام ہو کہ اگر کام پر وہ سارا دن لگائیں تو ان کے لئے کھانا روک دیا جائے اور اگر کام پر نہیں لگتے تو خواہ کتنا عرصہ فارغ رہیں ہم اس کی حد بندی نہ کریں اور یہ خواہ پٹھان ہوں، خواہ کشمیری ، خواہ کوئی۔اور ہر ایک کے ساتھ وہی سلوک ہو کیونکہ سب کو ایک مرکز پر جمع کرنا ہے اور سب کے لئے ایک قانون ہونا چاہئیے کوئی استثناء نہ ہونی چاہئیے۔ہاں ان لوگوں کو ذاتی کاموں سے روکنے کے لئے یہ کرنا چاہئیے کہ کہا جائے کہ کام نہ کرو بلکہ پڑھو۔اس صورت میں خواہ کر یہ بھی دینا پڑے تو وہ بھی دے دیا جائے اور ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے اور اُنھیں دین سکھلا کر مبلغ بنا دیں اور اُنھیں اُن ملکوں میں جہاں کے ہوں مقرر کر دیں اس لئے کوئی قیود نہ ہوں بلکہ جو شریر ہوں اُن کو نکالا جائے۔“ مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے پر اختتامی تقریر کرتے ہوئے اختتامی تقریر حضور نے فرمایا: -