خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 632
خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء پیش ہوا تو آمد کی وصیت کرنے کی منظوری دے دی اور جائداد کو شامل کر لیا مگر جہاں جائداد کا ذکر کیا ہے وہاں آمد کو شامل نہیں کیا۔یہ نص اس بات کی کہ جو جائداد کی وصیت کرے اُس کے لئے ضروری نہیں کہ آمد کی بھی کرے۔دوسرا فریق کہتا ہے یہ نص نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب وصیت کا سوال آیا تو آپ نے پہلے جائداد سے آمد کو مستثنے کر دیا ہو اور بعد میں جائداد کو داخل کر لیا۔یہ بات عقل میں نہیں آتی۔باقی جو کچھ کہا گیا وہ رسہ کشی تھی، بے فائدہ تکرار تھی ، نوک جھونک بھی ہوئی۔یہ دراصل مولویوں کا ورثہ ہے جو ہماری جماعت کے بھی بعض لوگوں کو ملا۔ابھی تک وہ اسے 66 دُور نہیں کر سکے۔بہر حال جو دوست اس تجویز کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۲۸۴ را ئیں شمار کی گئیں۔جو دوست خلاف ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۲۷ را ئیں شمار کی گئیں۔فرمایا: - میں اکثریت کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں اور میرے نزدیک وہی بات صحیح بھی فیصلہ ہے۔چونکہ بہت لمبی بحثیں ہوئی ہیں مگر بعض سوالات کا جواب نہیں دیا گیا جو دیا جا سکتا تھا اور دیا جا سکتا ہے، اس لئے ان کا جواب دیتا ہوں۔ایک سوال وحی خفی کے متعلق اُٹھایا گیا ہے۔اس کے متعلق جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے مگر میرے نزدیک جہاں وحی خفی پیش کرنے والوں نے کوئی دلیل نہیں دی ، وہاں رڈ کرنے والوں نے عمدگی سے جواب نہیں دیا۔رسالہ الوصیت کے صفحہ ۲۱ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر اردو میں ہے۔اس کا مفہوم اردو کے لحاظ سے ہی لیا جائے گا۔اردو کے لحاظ سے اگر یہ لکھیں کہ یہ بات وحی خفی سے آئی ہے تو آگے بتانا ہوگا کہ وہ یہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس موقع پر فرماتے ہیں۔” خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے