خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 631

خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء ممبران نے اس بارہ میں تفصیل سے بحث کی اور اپنی آراء پیش کیں۔آخر میں حضور نے فرمایا:- دوستوں کے سامنے اس وقت وصیت کے متعلق یہ تجویز پیش ہے کہ ہر موصی کے لئے ضروری ہو کہ اپنی جائداد کی وصیت کرنے پر ہر قسم کی آمد پر ۱/۱۰ سے ۱/۳ حصہ تک ادا کرے۔اس آمد سے جائداد کی آمد مستنے ہو گی۔یعنی اُس جائداد کی آمد پر حصہ وصیت واجب نہیں ہوگا جس کے حصہ کی وصیت کر دی ہو۔مگر اُس کے سوا باقی جو آمد ہو اُس کا ۱۰را حصہ کم از کم دینا ضروری ہوگا۔اس کے متعلق بعض دوستوں نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تجویز کردہ قواعد کے خلاف ہے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ قواعد وجی خفی سے تجویز فرمائے ہیں اس لئے ان کو کوئی وحی خفی کے سوا تبدیل نہیں کر سکتا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ وحی خفی اگر نہ ہوتی تو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قواعد کو کوئی بدل نہیں سکتا اور بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات واضح کر دی ا ہے کہ اصل وصیت جائداد کی ہے، اس کے سوا کوئی اور شق قائم کرنا جائز نہیں ہوسکتا۔دوسرے فریق نے اس طرز پر اس بات کو رڈ کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وحی خفی سے صرف یہ بات پیش کی ہے کہ بعض شرائط عائد کئے جائیں جو صدق اور کامل راست بازی کو ظاہر کرنے والے ہوں۔پس وحی خفی ان شرائط کے عائد ہونے کے متعلق ہے۔ورنہ اگر وحی خفی میں یہ بات شامل ہے کہ جائداد ہی وصیت کرنے کی چیز ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام معا یہ سوال پیدا ہونے پر کہ جس کی جائداد نہ ہو وہ کیا کرے، آمد کی وصیت کرنے کے متعلق نہ فرماتے۔اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ بھی وحی خفی سے آپ نے کیا۔اس کا بھی یہی جواب دیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف اصول وحی خفی سے تجویز فرمائے ہیں مگر یہ کہ کس طرح وحی خفی سے تجویز کئے وہ سامنے نہیں آئی۔بہر حال اصل چیز یہی ہے کہ ایک فریق کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات بالوضاحت بیان فرما دی ہے کہ جائداد کی وصیت ہو گی۔پھر جب آمد کے متعلق سوال