خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 626
خطابات شوری جلد اول ۶۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء تیسرا دن مالی مشکلات کے باعث زمیندار احباب سب کمیٹی بیت المال کی طرف سے زمیندار احباب کو ان کی مالی مشکلات کو چندہ میں رعایت دینے کی تجویز کی وجہ سے کچھ رعایت دینے کے لئے تجویز پیش ہوئی کہ :- ”زمیندارہ آمدنی میں سے علاوہ اُن ڈیوز (DUES) کے جو فقرہ نمبرا میں درج ہیں، خرچ کمیاں کے بھی وضع کئے جائیں گے اور باقی ماندہ آمدنی کا ۲۰ را حصہ چندہ عام کی 66 صورت میں واجب ہوگا ۔“ اظہار خیال کا موقع ملنے پر کئی زمیندار ممبران نے کہا کہ وہ یہ رعایت نہیں لینا چاہتے را اور حسب سابق ۱۶ ا حصہ ہی چندہ عام ادا کریں گے ۔ اس پر رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا :- شاید اس سے پہلے کسی تجویز کے حق زمیندار بھائیوں کا عظیم الشان اخلاص میں اتی را کمیں نہیں ہوئیں اور میں سمجھتا ائیں ہوں دوسری رائے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں پہلے ہی محسوس کر رہا تھا کہ ان تقریروں کے بعد جو زمیندار دوستوں نے کیس کسی اور تقریر کی ضرورت نہیں لیکن میں اس لئے کہ اپنے آپ کو زمیندار سمجھتا ہوں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کو زمیندار قرار دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام حارث رکھا ہے اس لئے بیان کرتا ہوں کہ جب زمیندار بھائی یہ کہتے ہیں کہ ہم یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ چندہ کم کیا جائے تو پھر رعائت کا سوال ہی کیا ہے۔ جو لوگ اسے اپنی ہتک سمجھتے ہوں اُن کے لئے رعائت کا سوال کوئی معنی نہیں رکھتا۔ میرے نزدیک ان کی تقریروں کے سننے کے بعد ان کے نازک جذبات کا احترام نہایت ضروری تھا اور ان کے شاندار مظاہرۂ اخلاص کے بعد کسی قسم کی تقریروں کی ضرورت نہ تھی۔ میں سمجھتا ہوں یہ الفاظ کہہ کر کہ زمیندار احباب آئندہ چندہ ۱۶ را کی بجائے ۲۰ را دیں اُن کے عظیم الشان اخلاص کی ہتک کی جا رہی تھی جسے قطعاً جاری