خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 618
خطابات شوری جلد اوّل ۶۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء موقع دے دیتا ہے۔اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ابتداء میں ہی ساری قربانی پیش کر دی جائے مگر میں یہ وہم میں بھی نہیں لا سکتا کہ زمین و آسمان ٹل جائیں لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے تو ایسا ارادہ کرنے والا پیچھے رہ جائے کیونکہ اُسے سوائے خدا تعالیٰ کی مشیت کے اور کوئی چیز روک نہیں سکتی۔پس جو خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے وہ کبھی ہار نہیں سکتا۔کوئی انسان غیب نہیں جانتا نہ میں ، نہ نبی اور نہ نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔اس لئے غیب کی آواز خدا ہی کی آواز ہوسکتی ا ہے اور وہی اسے پورا کسی رہا ہے۔میری مثال تو قلم کی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کھتی ہے حالانکہ وہ نہیں لکھتی بلکہ لکھنے والا ہاتھ لکھتا ہے۔میں اپنے حالات ، اپنے علم اور اپنی طاقتوں کو جانتا ہوں کہ کچھ بھی نہیں مگر چونکہ میں نے اس کو اختیار کر لیا ہے جو سب کچھ ہے اور اُس نے کہا ہے کہ میں کام کرا دوں گا اس لئے مجھے ہر قدم پر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔مومن کے لئے موت غم کی گھڑی نہیں جب دشمن مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں میں کہتا ہوں اگر کر سکتے ہو تو کر دو۔جب مجھے موت آجائے گی میں سمجھوں گا میرے سپر د جو کام تھا وہ ہو چکا میرے لئے وہ غم کی گھڑی نہ ہو گی۔خواہ کسی کو کام ختم ہوتا نظر آئے یا نہ میں یہی سمجھوں گا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کام ختم ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت بھی لوگ سمجھتے تھے کہ آپ کا کام ختم نہیں ہو ا حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے انسان نے بھی یہی کہا۔پس جب میری موت کی گھڑی آئے گی تو میں سمجھوں گا کہ کام ختم ہو چکا مگر وہ اُس وقت تک آ نہیں سکتی جب تک اسیروں کی رُستگاری اور اسلام کی کامیابی نہ دیکھ لوں۔خدا کے بندوں کی موت اسلام کی فتح ہوتی ہے پس میں موت سے نہیں ڈرتا اور ہر احمدی کو اس نکتہ کی طرف بلا تا ہوں کہ جب اس پر موت آئے تو وہ ہنسے اور کہے اسلام کی فتح ہو گئی۔کسی کی موت اسلام کی موت نہیں ہو سکتی بلکہ خدا کے بندوں کی موت اسلام کی فتح ہوتی ہے۔ایک ایک فدائی اور مخلص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں اور بائیں جنگ کرتا ہوا