خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 617
خطابات شوری جلد اوّل ۶۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کہ خدا تعالیٰ مجھے یہ درجہ عطا کرے۔آپ نے فرمایا ہاں۔ایک اور نے عرض کیا میرے لئے بھی دعا فرمائیں۔آپ نے فرمایا نہیں پہلے جس کو موقع ملنا تھا مل گیا۔خدا تعالیٰ نے مجھے بھی خاص موقع دیا معلوم نہیں کسی اور کو دیا یا نہیں۔مگر وہ موقع ملے یا نہ ملے وہ ذہنوں میں تو ہے۔کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لاش مسلمانوں نے نکال کر رکھی ہوئی ہے۔سب کچھ قربان کرنے کی نیت کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ بعض احمدی کہلانے والے اپنی سستی اور منافقت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں، کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل اسلام کو سمجھا جاتا ہے، کیا یہ تینوں لاشیں تمہارے سامنے نہیں ہیں پھر تم کس طرح ایک پل بھی آرام سے بیٹھ سکتے ہو۔پھر کیوں تمہارے دل میں وہ جوش نہیں پیدا ہوتا جو میرے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش کے سرہانے کھڑا ہوکر پیدا ہوا۔یہی وہ ارادہ اور نیت ہے جو سب کچھ قربان کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے اور جس کے بعد کوئی روک نہیں رہ سکتی کیونکہ جو شخص یہ نیت کرتا ہے اور اُس کے دل میں خدا آ جاتا ہے اور دُنیا کی کوئی طاقت خدا کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔کون ہے جو اس ارادہ کے سامنے ٹھہر سکے اور کون ہے جو ایسے انسان کو شکست دے سکے۔وہ خدا تعالیٰ کی گود میں چلا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کا محافظ بن جاتا ہے۔مجھے ہزار ہا مخالفتوں کے مواقع پیش آئے مگر میں نہیں سمجھتا وہ کیا چیز ہے کہ جب دُنیا سمجھتی ہے یہ شکست کھانے لگا ہے تب سب مشکل نہ دُور ہو جاتیں اور فتح نمایاں ہو جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ کو وہی اقرار پسند آ گیا اور اس کی وجہ سے وہ سب مشکلات دور کر دیتا ہے۔وہ آواز جو اُس وقت میرے منہ سے نکلی اور جو یہ تھی کہ خواہ کچھ ہو میں دین کی خدمت کروں گا۔گومیرے منہ سے نکلی مگر خدا بول رہا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ پوری ہو رہی ہے۔مشکلات خدا تعالیٰ کب محافظ بنتا ہے پس جب کوئی یہ فیصلہ کر لیتا ہے اور یہ ارادہ اُس کے دل میں گڑ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے کسی۔چیز کی پرواہ نہیں کروں گا تو خدا تعالیٰ اُس کا محافظ بن جاتا ہے اور اُسے دین کی خدمت کا