خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 601

خطابات شوری جلد اوّل ۶۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء رنگ میں پڑھایا جائے۔تجربہ سے ثابت ہے کہ اگر چھوٹے بچہ سے یہ کہیں کہ وفات مسیح کے یہ دلائل ہیں تو وہ انہیں یاد نہیں رکھ سکتا لیکن اگر اُسے اس رنگ میں بتایا جائے کہ مسلمانوں کی پہلی حالت بہت اچھی تھی، انہوں نے بڑی ترقی کی مگر جب اُن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایک نبی حضرت عیسے تھے جو زندہ آسمان پر چلے گئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو کر زمین میں مدفون ہوئے تو اُن کی حالت خراب ہوگئی اور تنزل شروع ہو گیا حالانکہ قرآن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے فوت ہونے کے یہ دلائل آئے ہیں تو اس طرح آسانی سے دلائل یا درکھ سکتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی ، قضا و قدر، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور دوسرے مسائل اس طرح پڑھائے جا سکتے ہیں کہ بچے انہیں آسانی سے یا درکھ سکیں۔ایک دوست نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جنہوں نے پرائمری کورس مقرر کیا تھا انہوں نے یہ سمجھ کر کیا تھا کہ اتنی پڑھائی ہو سکتی ہے لیکن کمیشن نے اُس میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ اعتراض بہت وقیع ہے۔مگر یہ فرض کرنا کہ کمیشن نے یہ اندازہ نہیں کیا کہ زیادہ بوجھ ہو گیا ہے یہ صحیح نہیں۔اس کمیشن میں پروفیسر تھے ، مدرس تھے، عالم تھے انہوں نے ضرور اس بات کو مدنظر رکھا ہو گا کہ زیادہ بوجھ نہ پڑے۔اب تجربہ سے معلوم ہو سکے گا کہ یہ کورس چل سکتا ہے یا نہیں۔اگر بوجھ زیادہ ہوا تو کچھ مضامین کم کر دیں گے یا طریق تعلیم بدل دیں گے۔اس کے بعد میں یہ اعلان کرتا ہوں جیسا کہ کثرتِ رائے ہے ان تغیرات اور ہدایات کے ساتھ جو سب کمیٹی کے لئے ہیں اور جن کے مطابق وہ کام کرے گی اس سکیم کو منظور کرتا ہوں۔اگر ہم لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق کامیاب ہو سکیں تو ہمارے لئے آسانی ہوگی کہ لڑکوں کی تعلیم کی طرف بھی جماعت کو توجہ دلا سکیں کیونکہ اب نوکریاں نہیں مل سکتیں مگر ابھی اس طرف توجہ دلانا مشکل ہے۔مگر آج سے آٹھ دس سال بعد جب گریجویٹ دس پندرہ روپے کی نوکری کریں گے یا بھنگیوں پر پانی ڈھوتے پھر میں گے تو یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ کس قسم کی تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔پس في انحال لڑکیوں کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں اس میں کامیاب ہو گئے تو لڑکوں کے سکول میں بھی تغیرات کرنے آسان ہو