خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 600
خطابات شوری جلد اوّل ۶۰۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء لئے انتظام کر دیا جائے۔قادیان کی وہ لڑکیاں جو باہر اُستانیاں یا ڈاکٹر بننے کے لئے جائیں گی ان کی بہت ہی قلیل تعداد ہوگی۔کبھی ایک کبھی دو اور ممکن ہے کبھی ایک بھی نہ ہو۔پھر قادیان جیسی آبادی سے کس قدر اُستانیاں نکل سکتی ہیں جن کے لئے تعلیم کا انتظام کرنا چاہئے۔اصل سوال یہ ہے کہ قادیان سے باہر جو جماعت ہے وہ بھی چاہتی ہے کہ ان کی لڑکیاں پڑھیں۔وہ بھی ڈاکٹر بننے اور اُستانیاں بننے کے لئے پڑھیں گی مگر ان کے آنے سے اتنی تعداد ہو جائے گی کہ یہ مسئلہ خاص طور پر قابلِ غور بن جائے گا مگر یہ تو جیسا ہوگا دیکھا جائے گا۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی تعلیم کے پہلو کو مضبوط کیا جائے۔ایک دفعہ ایک والدہ اپنی لڑکی کو جو بی۔اے تھی میرے پاس اس لئے لائیں کہ اسے سمجھائیں کہ یہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھ لیتی ہے۔میں نے ابھی اُسے کچھ کہا نہیں تھا کہ وہ کہنے لگی جب ہماری پروفیسر ہی آ کر کہتی ہے کہ تفرقہ نہ کرو تو میں برداشت نہیں کر سکتی کہ تفرقہ کروں۔تو ایسے اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ کوئی احمدی لڑکا ایسا جواب نہ دیتا۔پس لڑکیوں کی دینی تعلیم پر خاص زور دینے کی ضرورت ہے۔میری رائے یہ ہے کہ میٹرک کے لئے تین سال نہیں دو ہی رکھے جائیں کیونکہ عمر کا سوال بھی ضروری ہوتا ہے، ملازمتوں کے لئے مشکل ہو گی اور یوں بھی ضروری ہے اس لئے دو سال ہی رکھے جائیں۔ہاں جن لڑکیوں کا ملازمتوں کا خیال نہ ہو اُن کے لئے مڈل کے بعد الگ جماعتیں قائم کی جائیں تا وہ دینی تعلیم میں ترقی کر سکیں۔جنہوں نے تعلیم چھوڑ دینی ہو اُن کے لئے مڈل کے کورس میں ضروری دینی تعلیم آجانی چاہئے۔سلسلہ کی تاریخ کے متعلق بھی ضروری ہے کہ ایسا نصاب ہو جس سے شروع سے سلسلہ کی باتیں سکھائی جائیں۔سکولوں کے جولڑ کے مجھے ملنے آتے ہیں اُن میں سے کسی کے متعلق میں نے یہ بات نہیں دیکھی لیکن جو چھوٹی لڑکیاں درس میں آتی ہیں اُن میں سے کئی مجھے تم کر کے مخاطب کرتی ہیں معلوم ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیوں کی اکثریت ایسی ہے کہ ان کو ضروری آداب نہیں سکھائے جاتے۔اسی طرح میرے نزدیک ایک ایسی کتاب ہونی چاہئے جس میں مسائل دینیہ کو تاریخی