خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 599
خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء رائے مانگی جائے تو کافی وقت دینا چاہئے۔آئندہ اس پر ضرور عمل ہونا چاہئے۔اب کے یہ غلطی ہوئی ہے۔ایک دوست نے کہا گورنمنٹ سے ایڈ کا جو رو پیدل سکتا ہے اسے کیوں چھوڑیں۔ان کی یہ بات نیک نیتی پر مبنی تھی اور اس کے مطابق انہوں نے کہا مگر ایک لطیفہ یاد آ گیا وہ سُنا دیتا ہوں۔جب میں حج کو گیا تو ایک عرب کے مفتی صاحب جو اُسی جہاز میں سوار تھے بہت گھبرائے ہوئے تھے کہ محی الدین عرب اُن کو میرے پاس لایا۔میں نے پوچھا کیا وجہ ہے گھبرانے کی؟ تو انہوں نے کہا یہاں کھانے کا کوئی انتظام نہیں، حالانکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ انتظام ہو گا ، اب میں کیا کروں؟ میں نے اُن کے متعلق کپتان جہاز سے کہا کہ جب یہ آ گئے ہیں تو ان کے کھانے کا کوئی انتظام کرو۔اُس نے کہا کمپنی کی طرف سے تو کوئی اجازت نہیں۔البتہ ملاحوں کو کافی کھانا ملتا ہے میں اُن سے کہتا ہوں کہ ان کو دے دیا کرو۔یہ انتظام ہو گیا۔میں ایک دن مفتی صاحب سے ملنے گیا تو پھر اُن کو گھبرایا ہوا پایا۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کھانے کے ساتھ شراب آتی ہے جو میں ایک یہودی کو دے دیتا تھا مگر آج کوئی نہیں ملا کسے دوں؟ میں نے کہا پھینک دو۔کہنے لگے پھینکوں کیسے؟ اس پر پیسے لگے ہوئے ہیں۔اگر سرکاری سکیم جاری کرنے کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہو تو ہم سرکاری ایڈ ترک کر سکتے ہیں لیکن اگر کوئی حرج نہ ہوتا ہو، ہمارے مقصد میں فرق نہ پڑے اور اپنے نصاب کے ساتھ سرکاری سکیم رکھ کر مل سکے تو کوئی حرج نہیں۔مگر ایڈ اس نقطہ نگاہ سے ہو نہ کہ ایڈ کے معنے کے لحاظ سے ہم سکیم میں کوئی اصلاح نہ کریں۔کمیشن کے ایک ممبر نے کہا کہ پوسٹ میٹرک اس لئے رکھا گیا ہے کہ اُستانیاں تیار ہوں۔اس میں طلبہ نہیں کہ استانیوں کی ضرورت ہے اور لڑکیوں کے مدارس جاری کرنے کے لئے اُستانیاں ضروری ہیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ بعض لوگ اپنی تعلیمی ڈگری سے زیادہ بھی پڑھا سکتے ہیں۔سُنا ہے ایک پروفیسر بی۔اے تھا جو ایم۔اے کلاس کو حساب پڑھاتا تھا مگر ہر ایک ایسا نہیں ہو سکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اُستانیوں کے لئے پوسٹ میٹرک کا انتظام ضروری ہے تو پھر ڈاکٹری تعلیم کے لئے بھی ہونا چاہئے مگر اس طرح بوجھ بہت بڑھ جائے گا اس لئے یہ ہو کہ چند ہوشیار طالبات کو لے کر اُن کو تعلیم دلائی جائے۔اُن کے