خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 594
خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء سے نکلا ہے جس میں طرفین کی کوشش پائی جاتی ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہمارا خیال رکھیں ہم آپ کا خیال رکھتے ہیں۔گویا یہ ایک قسم کا سودا بن جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے خلاف ہے۔قرآن کریم کہتا ہے اگر اس طرح کرو گے تو ان نیک سامانوں سے محروم ہو جاؤ گے جو خدا تعالیٰ نے مقدر کئے ہیں۔اب دیکھو را عنا کا لفظ کتنا معمولی ہے مگر اس کے اثرات کتنے غیر معمولی ہیں کہ مسلمانوں کی ترقیاں اس کی وجہ سے پیچھے پڑسکتی ہیں۔پس انسانی قلب چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے اثرات قبول کرتا ہے اور بسا اوقات بڑی بڑی باتیں بہت تھوڑا اثر کرتی ہیں۔اس چیز کو خدا تعالیٰ نے علم رویا میں بھی نمایاں کر کے دکھایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بعض رؤیا ایسی ہوتی ہیں جن میں نظارہ بڑا دکھایا جاتا ہے مگر ان کی تعبیر چھوٹی ہوتی ہے اور بعض رویا ایسی ہوتی ہیں کہ نظارہ چھوٹا ہوتا ہے مگر تعبیر بہت بڑی ہوتی ہے۔فرماتے ہیں اس قسم کی دونوں مثالیں سورہ یوسف میں پائی جاتی ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام ایک رویا دیکھتے ہیں کہ چاند، سورج اور ستارے اُنہیں سجدہ کر رہے ہیں اور مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان کے باپ اور بھائی ان کی ماتحتی میں آئیں گے۔سورج ، چاند اور ستارے سارے نظام عالم پر دلالت کرتے ہیں مگر نتیجہ صرف ایک خاندان کے متعلق نکلا۔دوسری رؤیا عزیز مصر نے دیکھی کہ سات موٹی گائیوں کو سات ڈبلی گائیوں نے کھا لیا۔بظاہر یہ معمولی بات تھی مگر تعبیر یہ تھی کہ بہت بڑا قحط پڑا جس میں مصر، شام، فلسطین کے لوگ مبتلاء ہوئے۔نظارہ کتنا معمولی تھا مگر نتیجہ کتنا بڑا نکلا۔خواب کا یہ پہلو بے وجہ نہیں بلکہ اِس لئے ہے تا بتایا جائے کہ بعض کام جو بڑے نظر آتے ہیں اُن کے نتائج معمولی ہوتے ہیں اور بعض جو چھوٹے نظر آتے ہیں اُن کے نتائج غیر معمولی نکلتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں صحابہ نے کس قدر شاندار قربانیاں کیں۔جب مدینہ میں مہاجرین آئے تو انصار نے انہیں اپنی جائدادیں بانٹ دیں۔حتٰی کہ ایک نے جس کی دو بیویاں تھیں ایک بیوی کو اس لئے طلاق دے دی کہ اُس سے مہاجر نکاح کر سکے مگر فتوحات میں جب مال آئے اور ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم