خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 589

خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء نے بتایا ہے کہ اب اگر جلسہ سالانہ مقررہ ایام سے بدلا گیا تو ایک سال کا جلسہ درمیان سے اُڑ جائے گا۔“ لڑکیوں کے لئے تعلیمی نصاب سب کمیٹی تعلیم نے لڑکیوں کے لئے اپنا تجویز کردہ نصاب پیش کیا۔جس پر کئی احباب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔تفصیلی بحث کے بعد حضور نے فرمایا: - مختلف دوستوں نے اپنے خیالات ظاہر کئے ہیں اور اسی رنگ میں کئے ہیں کہ جس میں ہر دوست نے خیال کیا کہ شاید اس کی مُجزوی رائے کواگر نظر انداز کیا گیا تو آئندہ سلسلہ کی تعلیم کو سخت خطرناک نقصان پہنچے گا۔میں نے ہمیشہ دوستوں کو سمجھایا ہے کہ انہیں اُس کا رک کی طرح نہ بہہ جانا چاہئے جو دریا میں گر جائے۔جب کہہ دیا گیا ہے کہ اصولی بات پیش کرنی چاہئے تفصیلی باتیں اس وقت نہیں ہوسکتیں، تو پھر تفصیلات میں پڑنے کا کیا فائدہ۔مگر ساری تقریروں میں ایک دو باتیں اصولی تھیں باقی جنہوں نے کہا یا کچھ کیا ، اس کے متعلق میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وقت ضائع کیا کیونکہ اُن کی تقریروں کو میں نے خود جاری رہنے دیا اس لئے اخلاقی طور پر تو وقت ضائع نہیں ہوا اور روکا اِس لئے نہیں کہ ان کی سبکی نہ ہو مگر عملی طور پر وقت ضائع ہوا ہے، کیونکہ کام کی بات بہت کم کی گئی۔بعض دوست ایسے ہیں کہ انہیں بار بار کہا جاوے کہ بس کریں تو بھی بحث شروع کر دیتے ہیں حالانکہ یہاں تو خلافت کا تعلق ہے۔پریذیڈنٹ بھی اگر کہے کہ کچھ نہ کہو تو پھر کسی کی مجال نہیں اصرار کرے۔مگر یہاں بعض لوگوں کو اتنا غلو ہوتا ہے کہ روکا جائے تو بھی بحث شروع رکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوستوں کے دل اتنے کمزور ہیں وہ اِس رو میں بہہ جاتے ہیں جو ان کے سامنے آئے۔اس وقت جو اصولی باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ بہت سی لڑکیاں پرائمری کے بعد تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔اس کے نصاب میں یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ لڑکیاں رسوم اور سلسلہ کی تعلیم سے پرائمری تعلیم کے دوران میں واقف ہو جائیں، گو یہ کہنے والے دوست نے سب سے زیادہ وقت ضائع کیا مگر یہ اصولی بات تھی جو بیان کی۔عام اصول یہ ہے کہ لوگ پرائمری تک تعلیم کافی سمجھتے ہیں اس حد تک ضرور یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ سلسلہ کی اصولی تعلیم کچھ نہ کچھ آ جائے مگر جو کورس تجویز کیا گیا ہے اس میں پرائمری