خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 570
خطابات شوری جلد اول ۵۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء ایسا کلمہ نکل جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ تو بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لئے دُعا کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ انسان کی طاقت سے باہر ہوتی ہیں ۔ پس پہلے تو سب دوست مل کر خلوص دل سے دُعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمارے ارادوں میں، ہماری نیتوں میں ، ہمارے کام میں، ہمارے فکر میں، ہمارے غور میں ، ہماری رائے میں اور ان کے نتائج میں برکت دے۔ پھر ہمیں توفیق دے کہ جن نتائج تک ہم پہنچیں اُن پر عمل بھی کر سکیں ۔ یہ نہیں کہ یہاں تو ان پر غور کریں مگر گھر جا کر سور ہیں۔ پھر خدا تعالیٰ ان فیصلوں میں برکت دے کہ ان فیصلوں کے مطابق جماعت جو کام کرے اس کا اثر دُنیا میں نیک ہو، مفید ہو اور جلد سے جلد وہ اثر دُنیا میں پھیل جائے ۔ اس کے بعد دعا کی گئی ۔ افتتاحی تقریر تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے افتتاحی تقریر فرمائی :۔ نے حسب ذیل مجلس مشاورت کی غرض اللہ تعالی کے فضل کے ماتحت ہم پھر اس جگہ پر اس لئے جمع ہوئے ہیں تا کہ جماعت کے آئندہ سال کے پروگرام پر غور کر سکیں تا کہ اپنی طاقت اور اپنی توفیق کے مطابق خدا تعالیٰ کے جاری کردہ کام میں حقیر خدمت کر کے اُس کے فضلوں کے وارث بن سکیں اور اُس کے انعامات سے حصہ لے سکیں ۔ جماعت احمدیہ کی مثال ہماری مثال اپنی اپنی حالت اور طاقت کے لحاظ سے اُس کی سی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ رات کو اُلٹا سوتا ہے۔ پرنده لاتیں آسمان کی طرف کرتا ہے اور سر نیچے کو، تاکہ اگر آسمان گر پڑے تو وہ سہارا دے سکے ۔ یہ تو لطیفہ بنانے والے نے بنا دیا ورنہ اُس پرندہ میں اس بات کا کیا احساس ہو سکتا ہے مگر ہمارا یہ حال ہے کہ آسمان گرا ہوا ہے، زمین بوجھ کے تلے دبی ہوئی ہے، دُنیا کی صورت اس قدر مسخ ہو چکی ہے کہ پہچانی نہیں جاتی ، جو کچھ خدا تعالیٰ کے کلام میں ہم پڑھتے ہیں وہ گزر چکا اور جو بعد کی تاریخ میں پاتے ہیں وہ یا تو خواب معلوم ہوتا ہے یا وہم نظر آتا ہے یا پھر ان امیدوں کا نقشہ ہے جو اُن کے قلوب میں پیدا ہوئیں ۔ دنیا کی موجودہ حالت ورنہ دنیا اپنی موجودہ حالت میں اس بات کے باور کرانے کا کوئی رستہ نہیں کھلا رکھتی کہ وہ نیکی ، وہ تقویٰ ، وہ پاکیزگی اور