خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 569
خطابات شوری جلد اوّل ۵۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء دعا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ فرمایا : - مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء منعقده ۳۰-۳۱ / مارچ و یکم اپریل ۱۹۳۴ء) پہلا دن ۳۰ / مارچ ۱۹۳۴ء بوقت سوا تین بجے مجلس مشاورت کا پہلا اجلاس تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں شروع ہوا۔تلاوتِ قرآن مجید کے بعد حضور نے دُعا سے متعلق " پیشتر اس کے کہ ہم مجلس شوری کی کارروائی شروع کریں جب کہ ہمارا قدیم سے طریق ہے اور جیسا کہ الہی ہدایت نے ہمیں سکھایا ہے اور جس کی وجوہ میں نے کئی جلسوں میں بیان کی ہیں دُعا کر لینی چاہئے۔مومن کے تمام کام دُعاؤں سے شروع ہونے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم جیسی منزّه عَنِ الخطا پاک اور متبرک کتاب کو بھی دُعا سے شروع فرمایا اور دُعا پر ہی ختم کیا ہے۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اور سورۃ فاتحہ دعائیں ہیں۔پھر سورۃ الاخلاص ، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس بھی دعائیں ہیں۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم سے بھی پہلے قرآن کریم میں حکم ہے فَإِذَا قَرَاتُ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بالله کہ جب تم تلاوت کرنے لگو تو استعاذہ کر لیا کرو۔اسی کے ماتحت قرآن کریم پڑھنے سے پہلے اَعُوذُ پڑھا جاتا ہے۔پس جو بھی نیک کام ہو دُعا سے شروع ہونا چاہئے اور برخلاف ان کے جو یہ کہتے ہیں در کار خیر حاجت پیچ استخارہ نیست ، ضرور دُعا کرنی چاہئے۔نیک کام کے متعلق دُعا یہ ہوتی ہے کہ الہی ! میری نیت درست ہو اور نتیجہ مفید نکلے۔پھر آراء کی درستی ، فکر کی درستی، کلام کرنے کے طریق کی درستی کے لئے دُعا کرنی چاہئے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دو دوست بڑی محبت سے گفتگو شروع کرتے ہیں مگر ان میں سے کسی کے منہ سے کوئی۔