خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 548

خطابات شوری جلد اوّل ۵۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء کی ضرورت نہ تھی جو آپ نے لکھیں اور نہ قرآن کریم کے مطالب کی تشریح کرنے کی ضرورت تھی۔آپ کے آنے اور کتابیں لکھنے کی ضرورت اسی لئے پیش آئی کہ ایسے آدمی پیدا ہونے بند ہو گئے اور قرآن کریم کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہونے بند ہو گئے ایسے لوگ پیدا کرنے کے لئے آپ نے کتابیں لکھیں۔باقی ٹریکٹ و اشتہارات شائع کرنے کی ضرورت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اسی لئے میں نے بتایا کہ اشتہارات کے شائع کرنے کا قاعدہ موجود ہے، اختیار موجود ہے مگر اُنہوں نے اشتہارات شائع کرنے کی ضرورت پیش نہیں کی۔ضرورت ادارہ قائم کرنے کی بتائی گئی ہے یعنی یہ کہ مبلغین کو گھٹایا جائے۔پس اشتہارات کی ضرورت ہے کیونکہ اشتہار وہاں پہنچ سکتا ہے جہاں مبلغ نہیں پہنچ سکتا۔دو آنے کے اشتہار کے ذریعہ ہم پولینڈ میں تبلیغ کر سکتے ہیں۔جہاں اگر آدمی بھیجیں تو کئی ہزار روپیہ خرچ ہو۔غرض ٹریکٹوں کی ضرورت ہے مگر تبلیغ کے اُس حصہ کو نقصان پہنچا کر جو مبلغین کے ذریعہ ہوتا ہے اس ضرورت کو پورا کرنا فرض ہے اگر جماعت اس وقت زیادہ بوجھ نہیں اُٹھا سکتی تو چھوٹے پیمانہ پر ہی یہ کام شروع کر دے۔اگلے سال اس میں اور اضافہ ہو جائے اور پھر اسی طرح اضافہ ہوتا رہے مگر ایسے انتظام کو جس پر ۳۴ ہزار روپیہ سالانہ صرف ہوتا ہے اور ۱۳ سال میں ایک مبلغ تیار ہو سکتا ہے نقصان پہنچا نا کسی حالت میں بھی درست نہیں ہو سکتا۔صوبجاتی انجمنیں کتنے مبلغ لے سکیں گی ؟ چار پانچ تک حد ہوگی۔پھر باقی مبلغ بے کار ہوں گے۔اشتہاروں کے متعلق جہاں تک میں نے غور کیا ابتداء میں اتنے روپیہ کی ضرورت نہیں۔یوں تو پانچ ہزار روپیہ بھی کم ہوگا جیسا کہ ضیاء صاحب نے کہا ہے۔مگر ابتداء میں تھوڑے خرچ سے بھی ہم کام چلا سکتے ہیں۔چونکہ ہماری جماعت کا حوصلہ بڑا ہے اس لئے وہ ہر کام اعلیٰ پیمانہ پر کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ایک ایک احمدی سو سو اشتہار لے کر بانٹنا شروع کر دیتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ خوب تبلیغ ہوگئی مگر اس طرح تو ایک شخص ایک لاکھ اشتہار بھی تقسیم کر سکتا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔فائدہ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اشتہار اپنے گھر میں رکھیں اور تبلیغ کریں۔پھر جسے متوجہ دیکھیں اُسے اشتہار دیں اس صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے۔پھر تعلیم یافتہ لوگوں میں اشتہار تقسیم کئے جائیں۔اس طرح