خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 543

خطابات شوری جلد اوّل ۵۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء تقریر کرنے والوں کو گلے کی خشکی کی وجہ سے کوئی چیز کھانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر روزہ کی حالت میں اُسے مشکل پیش آئے گی۔اگر یہ کہا جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رمضان میں امرتسر میں چائے پی تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے سامنے بار بار پیش کی گئی اور آپ انکار کرتے رہے۔آخر جب بہت اصرار کیا گیا تو آپ نے پی لی۔اس پر جب فساد ہو گیا تو آپ نے فرمایا اسی لئے میں انکار کرتا تھا کہ خیال تھا لوگوں کو ٹھوکر لگے گی۔پھر کہا جا سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مہمان تھوڑے آتے تھے اس لئے رمضان کے ایام میں جلسہ ہو سکتا تھا لیکن اب مشکل ہے کیونکہ اب مہمانوں کی بہت زیادہ تعداد ہوتی ہے مگر اب یہ بھی تو کہا جا سکتا ہے کہ اُس وقت مہمان کم آتے تھے تو انتظام کرنے والے بھی تھوڑے تھے اور اب جب کہ ۱۵۔۲۰ ہزار مہمان آتے ہیں تو کام کرنے والے بھی خدا کے فضل سے بکثرت ہیں۔اب سب باتوں پر غور کرتے ہوئے ٹھنڈے دل سے اور دُعا کرتے ہوئے رائے دینی چاہئے۔اگر جلسہ کو دوسرے ایام پر ملتوی کر دیا جائے اور لوگ شامل نہ ہوسکیں تو یہ بھی مشکل ہے اور اگر انتظامی مشکلات پیش آئیں تو یہ بھی مشکل ہے۔اگر ایسی مشکلات ہوں جو نا قابل حل ہوں تو جلسہ کی تاریخیں تبدیل کی جا سکتی ہیں لیکن اگر ایسا نہ ہو تو کوشش کرنی چاہئے کہ انہی ایام میں جلسہ ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر کئے ہیں کہ یہی با برکت ایام ہیں۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہیں کہ رمضان میں بھی جلسہ دسمبر میں ہی ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔“ آراء لی گئیں تو ۲۴۰ را ئیں حق میں اور ۴۸ مخالف تھیں۔فرمایا: - "میرا ذاتی میلان مجلس شوری سے پہلے یہی تھا کہ جلسہ سالانہ دسمبر کے ایام سے ملتوی کر دیا جائے۔مگر اس وقت جو تقریریں سنیں اور ناظر صاحب ضیافت ( میر محمد الحق صاحب ) سے جو یہ یقین سُنا کہ انتظامی مشکلات پیش نہ آئیں گی تو تر ڈو میں ہوں اور نفس کوئی قطعی فیصلہ نہیں کر سکا اس لئے میں کثرت کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔۱۹۳۳ء کے سالانہ جلسہ کے