خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 538
خطابات شوری جلد اوّل ۵۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء پسند کرتے ہیں۔آیا تفصیلی نوٹ لکھے جائیں اور ان کے تیار ہونے کے بعد ترجمہ شائع کیا جائے یا مختصر نوٹ لکھ کر جو قرآنی امور کی وضاحت کرنے والے ہوں خصوصاً نومسلموں کو قرآن کریم کے پڑھنے میں مشکل نہ پیش آئے، ترجمہ شائع کر دیا جائے۔ان میں سے کون سی صورت اختیار کی جائے؟ اس کے لئے دوستوں سے مشورہ چاہتا ہوں۔اس کے متعلق میں دو چار دوستوں کو اظہار خیالات کے لئے اجازت دے سکتا ہوں۔یہ انفارل (INFORMAL) مشورہ ہے اس لئے اس کے متعلق زیادہ تقریروں کی ضرورت نہیں۔“ حضور کے ارشاد پر احباب نے مشورہ دیا کہ ترجمه قرآن انگریزی جلد از جلد مختصر نوٹس کے ساتھ ہی شائع کر دینا چاہئے۔چنانچہ رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا: - ”جہاں تک میں سمجھتا ہوں تمام دوستوں کی یہی رائے ہے۔اِلَّا مَا شَاءَ الله کسی دوست پر جو کھڑے نہ ہوئے ہوں نظر نہ پڑ سکی ہو تو اور بات ہے ) کہ جلد سے جلد ترجمہ قرآن مختصر نوٹوں اور دیباچہ کے ساتھ شائع کر دیا جائے جیسا کہ قاضی محمد یوسف صاحب نے بیان کیا ہے کہ جماعت اس کام کے لئے مالی امداد کرنے کے لئے تیار ہے۔اگر دوست اپنی اپنی جگہ جا کر کوشش کریں تو ابتدائی اخراجات کا مہیا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔اگر دو ہزار بھی خریدار پیدا ہو جائیں اور ساڑھے سات روپے تک قیمت ہو، خیال یہ ہے کہ اس سے زیادہ قیمت نہ رکھی جائے تو اخراجات کے لئے کافی رقم جمع ہوسکتی ہے۔زیادہ خرچ عربی متن کے بلا کس بنوانے پر آئے گا جس کا اندازہ دس ہزار کے قریب ہے، بقیہ خرچ کم ہوگا۔بلاکس کا بھی پہلی دفعہ بھاری خرچ برداشت کرنا پڑے گا پھر یہ خرچ نہیں ہو گا۔ایک دفعہ کے بنائے ہوئے بلا کس کام آتے رہیں گے اس لئے بجائے اس کے کہ کوئی چندہ جمع کیا جائے اگر احباب واقعہ میں ضرورت سمجھتے ہیں کہ جلد سے جلد انگریزی ترجمہ شائع ہو تو جن کو خدا نے توفیق دی ہے وہ دس پندرہ پچاس جلدیں خرید لیں اور اُن کی قیمت پیشگی ادا کر دیں یا دوستوں میں تحریک کر کے ان سے قیمت بھجوا دیں تا کہ بلاکس بنوانے کا کام شروع کیا جا سکے۔بلاکس بننے پر کم از کم ایک سال کا عرصہ لگ جائے گا کیونکہ اوّل ایک کا تب سارا قرآن لکھے گا، اس کے بعد بلا کس بنیں گے، اس طرح ایک سال کا اندازہ ہے لیکن جب تک کچھ نہ کچھ روپیہ نہ آجائے کام شروع کرنا مشکل ہے۔گو ذہن میں ایسی تجاویز