خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 531
خطابات شوری جلد اوّل ۵۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء راہ نمائی کرے گا۔اِيّاكَ نَعْبُدُ میں یہی بتایا گیا ہے کہ اگر خدا کا منشاء معلوم کرنا چاہتے ہو، اُس کی نصرت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے ذہن کو بالکل خالی کر دو۔ہر وقت دُعائیں کرو دوسری بات رایگانت تنتمين " بتائی ہے۔اگر اپنی خالی مختی کو کسی گوشہ میں رکھ چھوڑو تو اس پر کون لکھتا ہے۔اگر اس پر کچھ لکھنا چاہتے ہو تو لکھنے والے کے پاس لے جاؤ۔پس پہلے تو اپنے خیالات اور ارادوں کو بھول جاؤ اور پھر خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ ہمارے دل کی سختی خالی ہوگئی ہے تو آ اور اس پر لکھ۔اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ایک گوشہ میں جائیں اور مصلی بچھا کر اور مجھک کر دعا کریں بلکہ یہ دعا ہر وقت ہو سکتی ہے۔جو یہ خیال کرتا ہے کہ دُعا صرف مصلے پر بیٹھ کر ہی ہو سکتی ہے وہ بیوقوف ہے۔ہم ہر سانس جو لیتے ہیں اس میں بیسیوں جراثیم اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں۔ہر نظر جو ڈالتے ہیں اس میں کئی قسم کے گناہوں کی کشش ہوتی ہے۔ہر چیز جو چھوتے ہیں بیسیوں قسم کی مضرتیں اپنے اندر رکھتی ہے غرض ہمارا جسم بیسیوں رستوں سے زہر کھینچ رہا ہے، اور بیسیوں قسم کا زہر کھینچ رہا ہے۔ایسی حالت میں دُعا وہی ہے جو ہر وقت ہمارے ساتھ رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک صوفی کا قول بیان فرمایا کرتے تھے کہ مومن کی حالت کا نقشہ یہ ہوتا ہے کہ دست در کار دل با یار۔پس جو انسان ہر وقت دُعا میں لگا ہوتا ہے وہی اِيَّات نستعین پر عمل کرتا ہے۔غرض اپنا نفس خالی کرنے کے بعد یہ کام کرنا چاہئے کہ واحد خدا کے ساتھ اپنی روح کو ملا دیں اور یوں سمجھیں کہ ہمارا قلب ایک سفید کاغذ ہے جس پر خدا کا قلم چل رہا ہے۔یہ احساس جو کیفیت پیدا کرتا ہے وہ راتیات نشتین کے ماتحت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بغیر صحیح نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اس کے بعد اهدنا الصراط المستقیم کہنے کا حق ہوتا ہے۔یعنی اول خلق قلب پیدا کریں، پھر خدا تعالیٰ سے وابستگی پیدا کریں، اس کے بعد منہ سے یہ دُعا کہیں۔ایک گر کیا کہیں؟ اس کے متعلق گر بتا تا ہے کہ محض صداقت انسان کو کامیاب نہیں کرتی۔بہت لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں ایک صداقت اختیار کر کے اس کے ذریعہ کامیاب ہو جاؤ۔جیسے عیسائی ہیں وہ کہتے ہیں رحم ایک صداقت ہے اسی کو اختیار کرنے سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے خواہ دوسرے حالات کو نظر انداز کر دیا جائے۔گورحم بہت