خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 530

خطابات شوری جلد اوّل ۵۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء خدا تعالیٰ کے حضور اِس طرح گریں اور وہ اپنا منشاء بتانے سے محروم رکھے۔اس طرح ہم اُس کا صحیح منشاء پالیں گے اور اس فیصلہ پر پہنچ جائیں گے جو خدا تعالیٰ نے آسمان پر کیا ہوا ہے۔تجربہ شدہ صداقت یہ ایسی چیز ہے، اتنی بڑی صداقت ہے اور اتنی دفعہ میں نے اس کا تجربہ کیا ہے کہ دنیا کی موجودات اور مشاہدات میں سے اسے زیادہ ہی یقینی سمجھتا ہوں۔میں نے اپنی ذات کے متعلق دیکھا ہے جب بھی خدا تعالیٰ کے لئے نفس کو خالی کیا ، اتنی معلومات حاصل ہوئیں جو پہلے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں۔خدا تعالیٰ کے فرشتے ایسی کھڑ کی کھول دیتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے سارے علوم اسی میں سے گزر کر جاتے ہیں۔پس اگر کوئی اپنے آپ کو سچ مچ خدا تعالیٰ کے آگے ڈال دے تو خدا تعالیٰ اُسے اُس مقام پر پہنچنے کی توفیق دے گا جہاں اُس کا منشاء ظاہر ہو جاتا ہے۔کبھی اس کے پر د اپنے دل کے ذریعہ، کبھی الہام کے ذریعہ جیسے انبیاء کو۔کبھی غیر نبی بھی ذریعہ بن جاتا ہے جیسے اذان ہے۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الہام نہیں کی گئی تھی بلکہ ایک صحابی کو الہام کی گئی تھی۔پس دیکھو اتنی برکت والی چیز براہ راست رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ بتائی گئی بلکہ آپ کے ایک ادنے غلام اور خادم کے ذریعہ بتائی گئی۔جب اللہ تعالیٰ کے نبیوں تک کو شریعت کے امور بعض غیر نبیوں کے ذریعہ سے بتائے جاتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عقل میری یا آپ کی ہی صحیح ہو۔ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنے چھوٹے سے چھوٹے بھائی کے ذریعہ ایسی بات بتائی جائے کہ وہ ہمیں کامیابی تک پہنچا دے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے راہنمائی ہم میں جو فرق ہے وہ اُس سے بہت کم ہے جو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے غلاموں میں تھا مگر خدا تعالیٰ نے دُنیا کو جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ نور عطا کیا وہاں کچھ آپ کے غلاموں کے ذریعہ بھی عطا کیا۔اسی طرح عقل خدا تعالیٰ نے اسی طرح تقسیم کی ہے کہ کوئی بات کسی کی عقل میں آ جاتی ہے اور کوئی کسی کی عقل میں۔اور اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کی نعمت کا چھینٹا ہر ایک پر پڑا ہے۔پس اگر ہم اپنے ذہنوں کو خالی کر کے اور یہ سمجھ کر کہ ہم اپنے نفس پر بھروسہ نہ کریں گے بلکہ صحیح اور درست بات جہاں سے ملے گی اُسے قبول کر لیں گے، کام کریں تو خدا تعالیٰ خود ہماری