خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 529

خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء کہتے ہیں تو اس سے مراد چند محدود عبادتیں نہیں لیتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مہر کے نقش قبول کرنے کے لئے اپنے نفس کو تیار کرتے ہیں اور یہ سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے ، ہر وقت اور ہر حالت میں کہہ سکتے ہیں۔الہام اور رؤیا اکثر سوتے میں ہی دکھائے جاتے ہیں اور سوتے ہوئے خدا تعالیٰ کے انعام کا الہام، کشف، رؤیا اور خواب کی صورت میں جاری رہنا بتاتا ہے کہ سوتے وقت بھی دل نقش قبول کر سکتا ہے۔الہام، کشف، خواب اور رویا عموماً رات کو ہی ہوتے ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کہ سوتے میں دماغ خالی ہوتا ہے اور وہ خوب نقش قبول کر سکتا ہے۔اس سے عبودیت کے متعلق یہ اصل معلوم ہوا کہ بالکل خالی الذہن ہو جانا چاہئے۔خدا تعالیٰ کا منشاء معلوم کرنے کا طریق پس جب ہم خدا تعالیٰ کا نقش قبول کرنا چاہیں، اُس کا منشاء اپنے لئے معلوم کرنا چاہیں تو بالکل خالی الذہن ہو کر آئیں۔اب اگر ایک شخص مجلس میں یہ خیال لے کر آتا ہے کہ میں اپنی فلاں بات منواؤں گا تو وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو اس ہال سے باہر ہی چھوڑ آتا ہے۔لیکن ایک اور آتا ہے جو کہتا ہے میں خدا تعالیٰ کا ناچیز بندہ ہوں میں اپنے سب نقش مٹاتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے سامنے قلب کی صاف تختی پیش کر کے کہتا ہوں آ اور اس پر اپنی مُہر لگا۔ہر وہ شخص جو اس خیال کے ساتھ آیا اور اُس نے یہ کہا وہ صحیح کہتا ہے اُسے خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل ہو گی لیکن وہ جو ایسا نہیں کہتا وہ خدا کی نصرت سے محروم رہے گا۔خواہ وہ اچھی بات کے لئے یہ خیال کرے یا بُری بات کے لئے۔کامیابی کس چیز کو حاصل ہوتی ہے یہ غلط ہے کہ ہر نیکی دُنیا میں کامیاب ہوتی ہے اگر ایسا ہوتا تو اسلام کو اس زمانہ میں کیوں ناکامی ہوتی۔جو چیز جیتی اور کامیاب ہوتی ہے وہ نَعْبُدُ والی حالت ہے۔وہ نقش جیتتا ہے جو خداتعالی تازہ تازہ لگاتا ہے۔صرف وہی زندگی ہوتی ہے۔اس کے سوا باقی سب موت ہی موت ہے۔پس اگر ایات نخبہ کہیں اور دل کو صاف کر لیں۔خدا تعالیٰ کے سامنے اخلاص سے نہیں کہ ہماری نہیں تیری ہی مرضی پوری ہو۔ہم نے دل خالی کر کے تیرے سامنے پیش کر دیا ہے، اب اس میں وہ ڈال جو تیری مرضی کے مطابق ہے تو پھر ممکن نہیں کہ