خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 528

خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء وہی ہوتے ہیں جن کے متعلق فیصلہ کرنا خدا تعالیٰ نے ہم پر چھوڑا ہے تا کہ ہم عقل دوڑائیں اور استنباط کریں۔پھر ہمارے لئے کس قدر خطرات ہیں۔اگر خدانخواستہ ہمارے تمام فکر، تمام سوچ اور تمام غور کا نتیجہ ایک ایسا پروگرام ہو جو خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہو تو ہم یہ اُمید نہیں کر سکتے کہ ہم اس لئے کامیاب ہو جائیں گے کہ احمدیوں نے وہ پروگرام تجویز کیا ہے۔اس حالت میں اس پروگرام کو اُسی طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے گا جس طرح کسی اور کے پروگرام کو لیکن اگر ہمارا پروگرام خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہوگا تو یقیناً خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے جاری کرنے میں لگ جائیں گے اور ہر قدم پر خدا تعالیٰ کی نصرت ہمارے شامل حال ہو گی۔خدا تعالی کی منشاء معلوم کرنے کی ضرورت مگر سوال یہ ہے کہ وہ کون سا ذریعہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ خدا تعالیٰ کا منشاء کیا ہے؟ اس کے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ ہونا چاہئے۔اگر نہیں تو پھر ضرور ہم ٹھوکر کھائیں گے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ پیشتر اس کے کہ مجلس مشاورت کی کارروائی شروع ہو بعض باتیں بیان کر دوں۔پہلی چیز جو قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے اور جس سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید کس طرح حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنا منشاء کس طرح ظاہر کرتا ہے وہ یہ ہے که انسان ایاک نعبد کہتا ہے۔یہ نہایت ہی ظلم ہو گا قرآن پر اور نہایت ہی ظلم ہوگا اسلام پر اگر ایاک نعبد کے یہ معنی کریں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں۔نماز پڑھنے کا وقت تو ایک خفیف وقت ہوتا ہے۔غور کرو دن رات کے ۲۴ گھنٹوں میں سے کتنا وقت نماز کے لئے صرف کیا جاتا ہے؟ اگر نماز کے لئے تین چار گھنٹے بھی سمجھ لئے جائیں بلکہ ۲۳ گھنٹے بھی اگر ہم اس کے لئے دیتے ہیں اور ایک گھنٹہ نہیں دیتے تو بھی شرک کرتے ہیں۔عبودیت کے معنی پس ایاک نعبد کے یہ معنی نہیں کہ ہم نماز ، روزہ وغیرہ عبادات بجالاتے ہیں۔عبودیت کے معنی تذلل کے ہوتے ہیں یا ایسی صورت اختیار کرنا جو اس چیز کی ہوتی ہے جو دوسرے کا عکس قبول کر لیتی ہے۔مثلاً نرم مٹی یا نرم موم یا نرم لاکھ ہے، یہ چیزیں دوسری چیز کے نقش قبول کر لیتی ہیں۔پس جب ہم اتناكَ نَعْبُدُ